تونسہ شریف کا تاریخی "شاہ دا میلہ”—ثقافت، روایت اور خوشیوں کا رنگین سنگم

رپورٹ: سدرہ اشرف

ہر سال موسمِ بیساکھی کی آمد کے ساتھ ہی تونسہ شریف کی فضا یکسر بدل جاتی ہے، جہاں حضرت پیر دین پناہ سید کے مزار پر سجنے والا مشہور و تاریخی “شاہ دا میلہ” ایک بار پھر رونقیں بکھیر دیتا ہے۔ یہ سالانہ میلہ محض ایک تفریحی تقریب نہیں بلکہ ثقافت، روایت اور سماجی ہم آہنگی کا خوبصورت امتزاج بن کر سامنے آتا ہے، جس کا انتظار مقامی افراد پورا سال کرتے ہیں۔

میلے میں داخل ہوتے ہی روایتی کھانوں کی خوشبو ہر سمت پھیل جاتی ہے۔ لذیذ پلاؤ، گرم گرم جلیبی اور ٹھنڈی قلفی کی مہک نہ صرف ذائقے کو لبھاتی ہے بلکہ ماضی کی روایات کی یاد بھی تازہ کرتی ہے۔ مختلف اسٹالز پر رنگ برنگے کھلونے، بچوں کے لیے جھولے اور دلکش سواریوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں بچے اور نوجوان خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے میلے کی سب سے بڑی کشش “موت کا کنواں” ہوتا ہے، جہاں ماہر موٹر سائیکل سوار اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک کرتب دکھاتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ میلے میں روایتی کشتی کے مقابلے، دیہی طرز کے جھولے، فیملی فوٹو اسٹالز اور سماجی میل جول کے مختلف مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

جن علاقوں میں تفریح کے مواقع محدود ہوتے ہیں، وہاں “شاہ دا میلہ” خوشیوں کا ایک خزانہ بن کر ابھرتا ہے۔ یہ میلہ نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دیتا ہے بلکہ خاندانوں، نوجوانوں اور بچوں کے لیے تفریح اور مسرت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ “شاہ دا میلہ” صرف ایک میلہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو کر ثقافتی ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور لوگوں کے دلوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں