انیلہ اشرف
پاکستان میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور گھر کے کمزور افراد کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
قومی اسمبلی نے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا ہے، جو گھریلو تشدد کے خلاف ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
اس نئے قانون کے مطابق:
بیوی، بچوں، بزرگوں یا گھر کے کسی بھی فرد کو گالی دینا، دھمکی دینا، تذلیل کرنا یا ذہنی اذیت دینا اب قابلِ سزا جرم ہے۔
بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر دوسروں کے ساتھ زبردستی رکھنا
کسی کی عزتِ نفس یا پرائیویسی مجروح کرنا
گھر میں خوف، دباؤ یا ذہنی اذیت کا ماحول پیدا کرنا
— سب کچھ گھریلو تشدد کے زمرے میں آئے گا۔
اس کے علاوہ:
جسمانی نقصان کی دھمکی
معاشی استحصال
جنسی استحصال
ضروریات پوری نہ کرنا
— یہ تمام اعمال بھی جرم تصور ہوں گے۔
قانون کی خلاف ورزی پر تین سال تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔
یہ قانون بیوی، بچوں، بزرگوں، لے پالک بچوں اور گھر میں رہنے والے ٹرانس جینڈر افراد پر بھی لاگو ہوگا۔
یہ بل شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا اور اب اسے سینیٹ بھیجا جائے گا۔
یہ پاکستان میں ایک محفوظ، محترم اور پرامن گھریلو ماحول کی جانب اہم قدم ہے—
کیونکہ ہر فرد کی عزت، حفاظت اور وقار لازم ہے۔