کراچی: قائد آباد میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی گئی ڈھائی سالہ بچی کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آگئی۔
مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی گئی ڈھائی سالہ بچی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق بچی کے کپڑوں سے کم از کم تین افراد کا ڈی این اے ملا ہے، ابتدائی طور پر 14 افراد اور بعد میں مزید کئی افراد کے ڈی این اے سیمپل لیے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات تھیں کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، بچی کے قتل میں چچی اور رشتہ دار ملوث ہیں۔پولیس نے بتایا کہ چچی نے بچی کو قتل کیا اورکمرے میں لاش رکھی، ملزمان کو لاش ٹھکانے لگانے کا موقع نہیں مل سکا اس لیے گھر کے باہر چھوڑ دی، ممکن ہے کہ دیگر افراد بھی قتل میں ملوث ہوں، تاہم خاتون کے شوہر کا کیس میں کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔
دوسر ی جانب کراچی کے ہی علاقے منگھوپیر روڈ سے بچے کے اغواء میں ملوث تمام ملزم گرفتارکرلیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی کا کا کہنا ہےکہ منگھوپیر روڈ سے بچے کے اغوا میں ملوث مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کوگرفتارکیاگیاہے۔
ایس ایس پی ویسٹ نے بتایاکہ 2 سال کےاذان کے والد کا دوست مرکزی ملزم ہے اور بچے اغوا میں براہِ راست ملوث ہے جبکہ ملزم کی جانب سے اغواء کے بعد 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیاگیا تھا۔ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق ملزم نےلالچ میں آکربرادر نسبتی اور دوست کے ہمراہ واردات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کیا۔
واضح رہے منگھوپیر روڈ پر قائم نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 2 سال کا اذان علی 18 جولائی کو اغوا ہوا تھا اور اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔

