Suprm Crt 2

سپریم کورٹ کا قابل دست اندازی جرم کا فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتےہی فوری مقدمہ درج کرنےکاحکم دے دیا.7صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریرکیا۔
Justice
جاری حکم کے مطابق اندراج مقدمہ کی تاخیرمیں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جاسکتی ہے، اندراج میں تاخیرپرٹرائل کورٹ نوٹس لےکرقانونی کارروائی کرسکتی ہے اور تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کیلئے آئی جی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بےقاعدگی کے طور نہیں دیکھنا چاہیے، پراسیکیوٹر جنرل سندھ 2025ء سے اب تک کے قتل مقدمات کی تفصیلات جمع کرائیں، ایسے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں 24 گھنٹوں سے زائد تاخیر کی گئی،2ماہ کے اندر ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آج کے بعد محمد بخش کیس احکامات پر عمل نہیں کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، تاخیر پر آئی جی ،ایس پی انویسٹیگیشن اور ڈی پی او کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کا سندھی ترجمعہ کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کر دی ۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا ، مجرم علی رضا پر 2012ء میں دادو میں ایک قتل کا الزام تھا ، قتل کیس کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا.

مقدمہ میں ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید ایک لاکھ جرمانےکی سزا سنائی تھی ، سندھ ہائیکورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا.

اپنا تبصرہ لکھیں