Ptrl 2

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عوامی برداشت کا امتحان، آخر کب تک؟

اکرام بکائنوی

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت اب محض ایک معاشی خبر نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا ایسا مسئلہ بن چکی ہے جس سے گھر کا بجٹ، کاروبار، زراعت، ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ پٹرول پمپ پر لگنے والا نیا ریٹ دراصل ایک پورے معاشی سلسلے میں نئی قیمتوں کا آغاز کرتا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں‌سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں‌جاری مسلسل اضافے کے بعد پٹرول 400 روپے کے قریب جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل سوا چار سول روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔اس تازہ اضافے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ مسلسل اضافوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔یوں عام شہری کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آج پٹرول کتنے روپے مہنگا ہوا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں آخر کہاں جا کر رکیں گی اور ان کا بوجھ کس حد تک عوام برداشت کریں گے؟
WhatsApp Image 2026 09 17 at 10.16.57
تحقیق کی نظر سے دیکھا جائے تو پٹرول کی قیمت صرف عالمی خام تیل کی قیمت کا نام نہیں۔ اس میں درآمدی لاگت، عالمی منڈی میں تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت، روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ، نقل و حمل، مختلف مارجنز، حکومتی محصولات اور دیگر قیمت سازی کے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اوگرا کی 16 ستمبر کی روزانہ قیمتوں کی دستاویز میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت سازی کے مختلف اجزا درج کیے گئے ہیں۔
حکومت نے حالیہ عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کو روزانہ کی بنیاد سے جوڑ دیا ہے۔ سرکاری موقف کے مطابق اس نظام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مقامی قیمتوں میں نسبتاً تیزی سے منتقل کرنا اور قیمت سازی میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔ وزیرِ پٹرولیم کے مطابق روزانہ قیمت کا حساب عالمی مارکیٹ کی سات روزہ اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر عالمی قیمت میں اضافہ ہو تو پاکستان میں قیمت فوراً بڑھ جاتی ہے، لیکن جب عالمی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کمی کا فائدہ عوام تک کتنی تیزی اور کس تناسب سے پہنچتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر قیمت سازی کے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت میں دائر ایک درخواست میں بھی پٹرولیم قیمتوں کے مختلف اجزا اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے، اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ مالیاتی پالیسی کے معاملات میں عدالتی مداخلت محدود ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں آئینی یا قانونی خلاف ورزی کا معاملہ ہو۔

پٹرول کی موجودہ قیمت میں حکومتی محصولات بھی ایک اہم حصہ رکھتے ہیں۔ ستمبر میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پٹرول پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز شامل تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف پٹرول خریدتے وقت صرف تیل کی عالمی قیمت ادا نہیں کرتا بلکہ قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف سرکاری محصولات کی صورت میں بھی ادا کرتا ہے۔ حکومت کے لیے یہ محصولات قومی خزانے کی آمدنی کا ذریعہ ہیں، مگر صارف کے لیے یہی رقم اس کی جیب سے نکلنے والا اضافی بوجھ ہے۔
Untitled 2026 01 06T082458.413
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک اہم حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر ملکی درآمدی بل اور زرمبادلہ کی ضرورت پر پڑتا ہے۔ حالیہ عالمی صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی کے خدشات نے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے درآمدی انحصار رکھنے والے ملک کے لیے عالمی قیمتوں کا دباؤ مقامی مارکیٹ تک منتقل ہونا فطری معاشی عمل ہے۔

لیکن یہاں سوال صرف عالمی حالات کا نہیں، ملکی معاشی ڈھانچے کا بھی ہے۔ اگر ہر عالمی جھٹکا براہِ راست پاکستانی صارف کو منتقل ہو جائے تو پھر عوام کے تحفظ کا نظام کہاں ہے؟ کیا کم آمدنی والے طبقے کے لیے کوئی ایسا مستقل طریقہ موجود ہے جس کے ذریعے ایندھن کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بوجھ کم کیا جا سکے؟ کیا حکومت کے پاس ایسے ذخائر، مالیاتی انتظامات یا ہدفی سبسڈی کا مؤثر نظام ہے جو بحران کے دوران غریب اور متوسط طبقے کو سہارا دے سکے؟ یہ سوالات صرف سیاسی بحث نہیں بلکہ معاشی پالیسی کے بنیادی سوالات ہیں۔

پٹرول مہنگا ہونے کا سب سے فوری اثر موٹر سائیکل سوار پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں افراد موٹر سائیکل کو دفتر، دکان، فیکٹری، مدرسہ، اسکول اور روزگار تک پہنچنے کے بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک شخص جو روزانہ محدود آمدنی میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے فی لیٹر چند روپے کا اضافہ بھی مہینے کے اختتام پر خاصا بڑا خرچ بن جاتا ہے۔ اس کے پاس سفر کم کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی، کیونکہ سفر ہی اس کی روزی کا ذریعہ ہے۔

ڈیزل کی قیمت کا معاملہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ ٹرک، بسیں، مال بردار گاڑیاں اور زرعی مشینری بڑی حد تک ڈیزل سے وابستہ ہیں۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ایک شہر سے دوسرے شہر سامان لے جانے کی لاگت بڑھتی ہے۔ کراچی سے پنجاب، بلوچستان سے سندھ، جنوبی پنجاب سے ملک کے دوسرے حصوں اور دیہی علاقوں سے شہروں تک پہنچنے والی اشیاء کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ بالآخر دکاندار، ہول سیلر اور صارف کے درمیان تقسیم ہوتا ہے، مگر آخری بوجھ اکثر عام خریدار کی جیب پر آتا ہے۔
inflation 3
کسان کے لیے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ ٹریکٹر، تھریشر، ٹیوب ویل اور فصل کی نقل و حمل جیسے کئی کام ایندھن کے اخراجات سے وابستہ ہیں۔ اگر فصل تیار کرنے کی لاگت بڑھ جائے تو کسان کے لیے منافع کم ہو سکتا ہے، جبکہ صارف کے لیے خوراک مہنگی ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یوں پٹرول اور ڈیزل کا مسئلہ براہِ راست آٹے، سبزی، پھل، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ بھی معاشی نظام میں ایک روپے تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹر کا خرچ بڑھتا ہے، دکاندار کا خرچ بڑھتا ہے، کسان کی لاگت بڑھتی ہے، فیکٹری کا مال برداری خرچ بڑھتا ہے اور پھر قیمتوں کا دباؤ صارف تک منتقل ہوتا ہے۔ اگر ایک طرف ایندھن مہنگا ہو اور دوسری طرف بجلی، گیس، کرایے اور دیگر بنیادی اخراجات بھی بلند ہوں تو متوسط طبقے کے لیے گھر چلانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ ایندھن کی قیمت بڑھنے سے صرف موجودہ اخراجات نہیں بڑھتے بلکہ لوگوں کی خریداری کی قوت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کی آمدنی میں سال بھر معمولی اضافہ ہو لیکن اس کے سفر، خوراک، بجلی، بچوں کی تعلیم اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے تو اس کی حقیقی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مہنگائی محض اعداد و شمار نہیں رہتی بلکہ انسانی زندگی کا معیار متاثر کرنے لگتی ہے۔

حکومت کے لیے پٹرول کی قیمت ایک مشکل مالیاتی مسئلہ بھی ہے۔ اگر عالمی قیمت بڑھنے کے باوجود حکومت پوری قیمت صارف کو منتقل نہ کرے تو خزانے پر بوجھ پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر پوری قیمت فوراً عوام کو منتقل کی جائے تو مہنگائی اور عوامی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسی لیے اصل چیلنج ایک ایسا متوازن نظام بنانا ہے جس میں حکومت کی مالی ضرورت، عالمی قیمت، ملکی زرمبادلہ کی صورتحال اور عوام کی قوتِ خرید سب کو سامنے رکھا جائے۔

اس بحث میں شفافیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر عوام کو ہر لیٹر پٹرول کی قیمت کے اجزا واضح طور پر معلوم ہوں، عالمی قیمت کتنی ہے، درآمدی لاگت کتنی ہے، ٹیکس اور لیوی کتنی ہے، آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کتنا ہے اور دیگر اخراجات کتنے ہیں تو قیمتوں کے بارے میں بحث زیادہ سنجیدہ بنیادوں پر ہو سکتی ہے۔ نئے روزانہ قیمت نظام کے تحت اوگرا کی جانب سے قیمت کے اجزا اور بینچ مارک معلومات شائع کرنے کا مقصد بھی اسی شفافیت سے جوڑا گیا ہے۔لیکن شفافیت صرف اعداد و شمار شائع کرنے کا نام نہیں۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کی صورت میں پاکستان میں کمی کس فارمولے کے تحت اور کتنی دیر میں منتقل ہوگی۔ اسی طرح اگر حکومت محصولات بڑھاتی یا کم کرتی ہے تو اس کا اثر فی لیٹر قیمت پر کتنا پڑے گا۔ جب تک یہ چیزیں عام فہم انداز میں واضح نہیں ہوں گی، ہر قیمت اضافہ عوام کے لیے ایک نئی بے یقینی پیدا کرتا رہے گا۔
monthly outlook report 1
پاکستان کو طویل مدت میں پٹرولیم کے مسئلے سے نکلنے کے لیے صرف قیمتوں کا جائزہ لینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مقامی توانائی کے ذرائع، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، ایندھن کی بچت، توانائی کے متبادل ذرائع، ریفائننگ صلاحیت میں بہتری اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے عالمی مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرتا رہے گا تو عالمی بحرانوں کا اثر ملکی معیشت پر بھی منتقل ہوتا رہے گا۔

عوام کی پریشانی کو صرف یہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ریاست کی ذمہ داری صرف قیمت مقرر کرنا نہیں بلکہ ایسی معاشی پالیسی بنانا بھی ہے جس میں کمزور طبقہ غیر معمولی جھٹکوں سے محفوظ رہ سکے۔ عالمی منڈی کو حکومت کنٹرول نہیں کر سکتی، مگر ٹیکس پالیسی، ریلیف کا طریقہ، پبلک ٹرانسپورٹ، توانائی کی منصوبہ بندی اور قیمت سازی کی شفافیت جیسے کئی معاملات ملکی پالیسی کے دائرے میں آتے ہیں۔

آج پٹرول پمپ پر کھڑا ایک عام پاکستانی جب 390 روپے سے زائد فی لیٹر پٹرول خریدتا ہے تو وہ صرف گاڑی کے ٹینک میں ایندھن نہیں ڈالتا، وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ سفر کے لیے مختص کرتا ہے۔ جب ڈیزل 425 روپے سے تجاوز کرتا ہے تو اس کا اثر صرف ٹرک کے پہیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ منڈی تک پہنچنے والی فصل، شہر تک پہنچنے والا سامان اور بازار میں فروخت ہونے والی اشیاء تک پھیل جاتا ہے۔اس لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بحث کو صرف ’’آج کتنے روپے اضافہ ہوا‘‘ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ پاکستان کی توانائی کی معیشت کس بنیاد پر کھڑی ہے، قیمت میں مختلف اجزا کا تناسب کیا ہے، عالمی منڈی کے جھٹکوں کا بوجھ کس طرح تقسیم ہوتا ہے، حکومتی محصولات کا کردار کیا ہے اور عام آدمی کی قوتِ خرید کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا مستقل انتظام موجود ہے۔

قوم کو ایسے معاشی نظام کی ضرورت ہے جس میں قیمتوں کی تبدیلی ایک شفاف عمل ہو، عالمی مارکیٹ کی مجبوریوں کو عوام کے سامنے واضح کیا جائے، قیمت کم ہونے کا فائدہ بھی صارف تک پہنچے اور مشکل وقت میں کم آمدنی والے طبقے کو ہدفی ریلیف دیا جائے۔ کیونکہ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں کے ایندھن نہیں؛ یہ پاکستان کی معیشت کے پہیے گھمانے والی بنیادی طاقت ہیں۔ اگر اس طاقت کی قیمت مسلسل بڑھتی رہے اور عوام کی آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو مسئلہ صرف پٹرول پمپ کا نہیں رہتا، پورا معاشی نظام عام آدمی کے لیے بھاری ہوتا چلا جاتا ہے۔

آج ضرورت جذباتی نعروں سے زیادہ درست اعداد و شمار، شفاف قیمت سازی اور دور رس معاشی منصوبہ بندی کی ہے۔ عالمی حالات بدلتے رہیں گے، تیل کی قیمتیں کبھی اوپر اور کبھی نیچے جائیں گی، مگر ایک مضبوط ریاست وہی ہوگی جو ان اتار چڑھاؤ کے درمیان اپنے شہریوں کو کم سے کم معاشی جھٹکا پہنچانے کا راستہ تلاش کرے۔ پٹرول کی قیمت کا ہر نیا ہندسہ دراصل حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے سامنے ایک سوال بھی رکھتا ہے: معیشت کے پہیے تو چل رہے ہیں، مگر کیا عام آدمی بھی اسی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے؟
Untitled 76

اپنا تبصرہ لکھیں