صفورا امجد
آج کا نوجوان ایک ایسے دباؤ میں سانس لے رہا ہے جس کی آواز تو سنائی نہیں دیتی مگر نتائج انتہائی خطرناک ہیں۔ کبھی اچھے نمبرز تو کبھی مالی خود مختاری کا دباؤ ۔ ہر نوجوان ایک پرفیکٹ زندگی کی کشمکش میں ہے ۔ اگر ماضی میں کامیابی کا مطلب دیکھا جائے تو وہ آج کی نسبت بہت مختلف ہے۔اب یہ توقع کی جاتی ہے کہ تعلیم مکمل کرو ، فوراً نوکری حاصل کرو پھر ترقی کرو۔ لیکن حقیقت میں اس سفر کا حصول اتنا آسان نہیں ہے۔ بار بار ناکامی یا مسترد ہونا نوجوان کو مایوس اور افسردگی کا شکار کر دیتا ہے کیونکہ اسے یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ زندگی میں رکنا بھی معمول کی بات ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے بڑھتے رجحان نے نوجوانوں کے لیے مالی خود مختاری کو ایک خواب بنا دیا ہے۔ پھر بھی معاشرہ یہ توقع کرتا ہے کہ نوجوان جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور خاندان کا سہارا بنیں۔ یہ مسئلہ صرف نوجوان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے. جب خواب پورے نہیں ہوتے تو خود کو ناکام تسلیم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل ناکامی خواب دیکھنا نہیں بلکہ خواب دیکھنے والوں کو سہارا نہ دینا ہے.
کسی بھی نوجوان کی زندگی میں خاندان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بعض اوقات والدین اور رشتہ دار ارادی یا غیر ارادی طور پر دوسروں کے بچوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ کسی کا بیٹا سیٹل ہو گیا تو کسی کی بیٹی نے سی ایس ایس کرلیا۔ یہ جملے کہنے میں
معمولی لگتے ہیں لیکن گہرا اثر چھوڑتے ہیں ۔ان موازنوں سے نوجوان اپنی پہچان کھونے لگتے ہیں اور معاشرتی توقعات کو پورا کرنے کیلئے ایسے فیصلے بھی کرنے لگتے ہیں جو اُن کی دلچسپی یا صلاحیت کے مطابق نہیں ہوتے ۔ جو آگے چل کر مزید ذہنی الجھنوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔
سوشل میڈیا (انسٹا گرام ، فیس بک اور لنکڈان ) نے نوجوانوں کے سامنے دنیا کی ایک ایسی فلٹر شدہ تصویر رکھ دی ہے۔ جہاں کامیابیاں تو دکھائی جاتی ہیں مگر ناکامیاں نہیں ۔ جس سے نوجوان اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ جو احساس کمتری اور افسردگی میں اضافہ کرتا ہے۔
نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان پر سب کچھ حاصل کر لینے کا دباؤ انہیں تھکا رہا ہے ۔ضرورت ہے کہ موازنہ کم کریں اور حوصلہ افزائی کو فروغ دیں۔ یاد رکھیں زندگی ایک سفر ہے اور اس سفر میں رکنا، سیکھنا، ہارنا اور جیتنا سب معمول کی بات ہے ۔


