اکرام بکائنوی
14 اگست کا دن جب بھی آتا ہے تو پاکستان کی فضا سبز ہلالی پرچموں، قومی ترانوں، چراغاں اور آزادی کی خوشیوں سے جگمگا اٹھتی ہے۔ گلیاں سجتی ہیں، عمارتوں پر پرچم لہراتے ہیں، بچے سبز و سفید لباس پہنتے ہیں، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر قومی پرچم نصب کیے جاتے ہیں اور ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے: ’’پاکستان زندہ باد‘‘۔ بلاشبہ یہ خوشی کا دن ہے، شکر کا دن ہے اور ان قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جن کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے ابھرا، لیکن اس جشن کے شور میں ایک سوال کہیں دب سا جاتا ہے: آزادی آخر ہے کیا؟ اور کیا محض ایک خطۂ زمین کا آزاد ہونا ہی مکمل آزادی کہلاتا ہے؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کا قیام ایک طویل سیاسی، آئینی، فکری اور عوامی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی سیاسی شناخت، تہذیبی تشخص، مذہبی آزادی اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک الگ سیاسی نظام کا مطالبہ کیا۔ 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور نے اس مطالبے کو ایک واضح سیاسی سمت دی، جبکہ بعد کے برسوں میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔
یہ واقعہ صرف جغرافیہ کی تبدیلی نہیں تھا؛ اس کے پس منظر میں ایک عظیم سیاسی جدوجہد، فکری بیداری، بے شمار انسانی قربانیاں، ہجرتوں کا المیہ اور ایک روشن مستقبل کی امید شامل تھی۔ پاکستان کی آزادی کی تاریخ کا ذکر علماء کے کردار کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ برصغیر میں انگریز اقتدار کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل روایت موجود تھی جس میں علماء نے مختلف ادوار میں اہم کردار ادا کیا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انگریز حکومت نے خصوصاً ان علماء اور دینی مراکز کو سخت دباؤ کا سامنا کرایا جو استعمار کے خلاف مزاحمت میں سرگرم تھے۔ متعدد علماء نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، بعض کو پھانسیاں دی گئیں اور کئی خاندانوں نے اپنے عزیزوں کی قربانیاں دیں۔
دارالعلوم دیوبند سے وابستہ علماء اور برصغیر کی مختلف مذہبی شخصیات نے بھی آزادی اور سیاسی شعور کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی تحریکِ ریشمی رومال اس سلسلے کی ایک اہم مثال ہے، جس کا مقصد برطانوی اقتدار کے خلاف منظم جدوجہد کرنا تھا۔ اس تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے قید و بند اور جلاوطنی سمیت سخت مشکلات برداشت کیں۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ بھی آزادی کی جدوجہد کے اہم علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی مزاحمت کے لیے بیرونِ ملک بھی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تحریکِ آزادی کے دوران علماء کے سیاسی مؤقف یکساں نہیں تھے۔ کچھ علماء تحریکِ پاکستان کے حامی تھے، کچھ متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اور کچھ مختلف سیاسی راستوں پر گامزن تھے۔
تاریخ کا دیانت دار مطالعہ اسی تنوع کو تسلیم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران کئی علماء نے مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے، مسلم شناخت کے تحفظ اور الگ وطن کے مطالبے کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ان نمایاں علماء میں سے تھے جنہوں نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ ان کی تقاریر اور سیاسی سرگرمیوں نے مسلم عوام کے ایک طبقے میں پاکستان کے مطالبے کے لیے جذبات اور سیاسی شعور پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ مولانا ظفر احمد عثمانیؒ بھی تحریکِ پاکستان کے سرگرم حامی علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد 14 اگست 1947ء کے تاریخی دن ڈھاکہ میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے کی سعادت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کو حاصل ہوئی، جبکہ کراچی میں آزادی کی تقریبات میں بھی علماء کی شرکت نمایاں تھی۔
یہ مناظر اس بات کی علامت تھے کہ پاکستان کا قیام صرف سیاسی قیادت کی جدوجہد نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کی مشترکہ کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ علماء کا کردار صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے عوام میں مذہبی و اخلاقی شعور پیدا کیا، برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی فکری بنیادیں فراہم کیں، مسلمانوں کو اپنی تہذیبی شناخت سے جوڑے رکھا اور دینی مدارس و مساجد کے ذریعے ایک ایسی نسل کی تربیت کی جو اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت سے واقف تھی۔ برصغیر کے دینی مراکز نے مشکل حالات میں علم، دین اور قومی شعور کے چراغ روشن رکھے۔ تاہم تاریخ کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ کسی ایک طبقے کو تحریکِ آزادی کا مکمل وارث قرار دینے کے بجائے تمام طبقات کی خدمات کو ان کے تاریخی تناظر میں تسلیم کیا جائے۔ پاکستان کے قیام میں سیاسی رہنماؤں، علماء، طلبہ، خواتین، تاجروں، مزدوروں، صحافیوں، وکلاء اور عام مسلمانوں سمیت مختلف طبقات نے اپنے اپنے انداز میں کردار ادا کیا۔ آزادی کی اصل عظمت اسی اجتماعی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان صرف تقریروں، قراردادوں اور سیاسی جلسوں سے حاصل نہیں ہوا؛ اس کی بنیاد ان بے شمار قربانیوں پر بھی رکھی گئی جن کا مکمل شمار تاریخ کی کتابوں میں شاید کبھی ممکن نہ ہو۔ تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں انسان اپنے آبائی گھروں، زمینوں، کاروباروں اور یادوں کو چھوڑ کر نئے وطن کی طرف روانہ ہوئے۔ قافلے منزل تک پہنچنے سے پہلے بچھڑ گئے، بہت سے لوگ راستوں میں جان سے گئے، خواتین نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے، بچے یتیم ہوئے اور خاندان ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ 14 اگست صرف جشن کا دن نہیں، بلکہ شکر، یاد، عہد اور احتساب کا دن بھی ہے۔ ہمیں ان لوگوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ایک آزاد وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ آزادی کی نعمت کی قدر وہی قوم کر سکتی ہے جو اس کی قیمت کو یاد رکھتی ہو۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی صرف بیرونی تسلط سے نجات کا نام نہیں۔ ایک ملک اس وقت حقیقی معنوں میں آزاد ہوتا ہے جب اس کے شہری خوف، جہالت، غربت، ناانصافی، کرپشن اور استحصال سے بھی آزاد ہوں۔ اگر ایک ملک کا جھنڈا آزاد فضا میں لہرا رہا ہو لیکن عام شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزادی کے ثمرات کس تک پہنچے؟ اگر قانون کتاب میں سب کے لیے برابر ہو لیکن عملی زندگی میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ پیمانے ہوں تو آزادی کا تصور ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ اگر تعلیم چند لوگوں کی دسترس میں ہو، صحت بنیادی ضرورت کے بجائے مالی استطاعت کا مسئلہ بن جائے اور روزگار نوجوان کے لیے ایک خواب بن جائے تو قومی آزادی کو معاشرتی اور معاشی آزادی میں تبدیل کرنے کی جدوجہد ابھی باقی ہے۔
پاکستان کا آئینی تصور بھی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ریاست اور شہری کے تعلق کی بنیاد قانون، انصاف اور ذمہ داری پر ہونی چاہیے۔ آئین پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق، مساوات اور آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن آئین کی اصل روح صرف کتاب میں محفوظ رہنے سے پوری نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور سب سے بڑھ کر شہریوں کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے آزادی کو اکثر صرف ایک سالانہ تقریب بنا دیا ہے۔ 14 اگست کو ہم پرچم خریدتے ہیں، قومی نغمے سنتے ہیں، سوشل میڈیا پر مبارک باد کے پیغامات لگاتے ہیں اور رات گزرنے کے بعد معمول کی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ خوبصورت روایات ہیں، لیکن اگر آزادی کا جشن صرف چند گھنٹوں تک محدود ہو جائے اور باقی 364 دن ہم اپنے قومی فرائض بھول جائیں تو پھر ہمیں اپنے جشن کے انداز پر غور کرنا چاہیے۔ وطن سے محبت صرف سبز لباس پہننے یا گاڑی پر جھنڈا لگانے کا نام نہیں؛ وطن سے محبت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ہم سڑک پر قانون کی پابندی کرتے ہیں، قومی املاک کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرتے ہیں، ملاوٹ اور دھوکے سے بچتے ہیں، رشوت سے انکار کرتے ہیں، اپنے سے کمزور انسان کے حق کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو علم و کردار کی دولت دیتے ہیں۔ اگر ماضی میں علماء نے آزادی کی جدوجہد میں عوامی بیداری کا کردار ادا کیا تھا تو آج بھی ان کی ذمہ داری کم نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، اصلاح، اخوت اور اجتماعی شعور کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔ مدارس صرف دینی علوم کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی، تحقیق، اخلاق اور ذمہ دار شہری پیدا کرنے کے مراکز بھی بن سکتے ہیں۔
آج کے علماء کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کو دین کے ساتھ علم، تحقیق، اخلاق، قانون پسندی، وطن سے محبت، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بھی دیں۔ مساجد سے یہ پیغام عام ہونا چاہیے کہ وطن سے محبت کا تقاضا قومی املاک کی حفاظت، قانون کی پاسداری، صفائی، دیانت، امانت، پڑوسی کے حقوق اور کمزور انسان کی مدد بھی ہے۔ علماء کا ایک بڑا فرض یہ بھی ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی بننے سے روکیں۔ فقہی، مسلکی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی قومی وحدت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ منبر و محراب سے ایسی زبان استعمال ہونی چاہیے جو دلوں کو جوڑے، نفرتیں کم کرے اور مسلمانوں کو باہمی احترام کا درس دے۔ دین کی اصل روح عدل، رحمت، اخوت، امانت اور انسانی احترام سے عبارت ہے۔ اسی طرح علماء کو جدید دور کے چیلنجز کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں، مذہبی غلط فہمیاں، انتہا پسندانہ مواد اور اخلاقی انتشار تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں ایک باشعور، متوازن اور تحقیق پسند عالم نوجوان نسل کے لیے رہنما کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج دنیا ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنس، صنعت، تعلیم اور تحقیق کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے آزادی کا مطلب صرف سیاسی خودمختاری نہیں بلکہ علمی، معاشی اور تکنیکی خود انحصاری بھی ہے۔ جو قوم علم، تحقیق، توانائی، صنعت اور بنیادی معاشی ضروریات میں مسلسل دوسروں کی محتاج ہو، اسے اپنی آزادی کے مفہوم پر مزید سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ ہم دنیا سے تعاون ضرور کریں، مگر اپنی صلاحیت، علم، محنت اور وسائل کو اس قدر مضبوط بنائیں کہ ہماری قومی ترجیحات دوسروں کی مرضی کی محتاج نہ رہیں۔ معاشی آزادی بھی قومی آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں عام آدمی کے لیے باعزت روزگار، کاروبار اور بنیادی ضروریات کا حصول مشکل ہو، وہاں سیاسی آزادی کے ساتھ معاشی انصاف بھی ضروری ہے۔ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں؛ غربت انسان کے خواب، خود اعتمادی اور مواقع کو بھی محدود کر دیتی ہے۔
اس لیے پاکستان کو ایسی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کریں، صنعت و زراعت کو مضبوط کریں، چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں اور دولت کے مواقع کو معاشرے کے وسیع طبقات تک پہنچائیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر، تحقیق، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل ملک کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتی ہے۔ لیکن اگر انہیں مایوسی، بے روزگاری، منفی سرگرمیوں اور بے مقصدیت کے حوالے کر دیا جائے تو ایک آزاد ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتی ہے۔ اساتذہ، والدین، علماء، دانشور اور ریاست سب کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ماضی کے قصے نہ سنائیں بلکہ انہیں مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کریں۔ انہیں بتایا جائے کہ پاکستان کی خدمت صرف سرحد پر بندوق اٹھانے سے نہیں ہوتی؛ علم حاصل کرنا، ایمانداری سے کاروبار کرنا، تعلیم دینا، تحقیق کرنا، قانون کی پاسداری کرنا اور معاشرے کے کمزور افراد کا سہارا بننا بھی وطن کی خدمت ہے۔ آزادی کا ایک اہم پہلو اختلافِ رائے کو برداشت کرنا بھی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں لوگ مختلف سیاسی، سماجی اور فکری آراء رکھ سکتے ہیں۔ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ تنقید غداری نہیں ہوتی اور سوال کرنا جرم نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح آزادیِ اظہار کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی کی عزت، مذہب، جان یا بنیادی حقوق پامال کرنے کی اجازت مل جائے۔ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جس آزادی کے ساتھ ذمہ داری نہ ہو وہ انتشار پیدا کر سکتی ہے، اور جس ذمہ داری کے ساتھ آزادی نہ ہو وہ جمود پیدا کر سکتی ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں اختلاف ہو مگر احترام کے ساتھ، تنقید ہو مگر دلیل کے ساتھ اور گفتگو ہو مگر اخلاق کے دائرے میں۔ ہمیں آزادی کے جشن کو ایک عہد میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ایسا عہد جس میں استاد تعلیم کو عبادت سمجھ کر پڑھائے، ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرے، تاجر دیانت داری کو کاروبار کا اصول بنائے، سرکاری ملازم عوام کی خدمت کو ذمہ داری سمجھے، طالب علم علم کو مستقبل کی طاقت سمجھے، صحافی خبر کو امانت سمجھے، عالم دین اختلاف میں اخلاق کا دامن نہ چھوڑے، سیاست دان اقتدار کو خدمت سمجھے اور عام شہری قانون کی پابندی کو قومی فریضہ جانے۔
14 اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف ماضی کی قربانیوں پر زندہ نہیں رہتیں۔ ماضی ہمیں شناخت دیتا ہے، مگر مستقبل ہماری محنت سے بنتا ہے۔ اگر ہم ہر سال صرف یہ کہتے رہیں کہ ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دی تھیں، لیکن خود اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہ کریں تو ہم ان قربانیوں کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ شہداء کے خون کا بہترین خراج یہ نہیں کہ ہم چند گھنٹے ترانے سنیں؛ بہترین خراج یہ ہے کہ ہم ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہو، جہاں علم کو عزت ملے، جہاں محنت کا صلہ ہو، جہاں غریب کو انصاف کے لیے اپنی عزت نہ بیچنی پڑے، جہاں نوجوان کو مستقبل نظر آئے اور جہاں اختلاف کے باوجود قومی وحدت قائم رہے۔ آج سبز ہلالی پرچم کو دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے ان لوگوں کو یاد کیجیے جو اپنا گھر چھوڑ کر اس وطن کی طرف آئے تھے۔ ان آنکھوں کو یاد کیجیے جنہوں نے اپنے پیاروں کو بچھڑتے دیکھا۔ ان ماؤں کو یاد کیجیے جنہوں نے اپنے بیٹوں کی قربانیاں دیں۔ ان علماء کو یاد کیجیے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان طلبہ، مزدوروں، تاجروں، خواتین اور عام مسلمانوں کو یاد کیجیے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا۔ پھر اپنے دل سے پوچھیں: ہم نے ان قربانیوں کے بدلے پاکستان کو کیا دیا؟ اگر اس سوال کا جواب ہمیں بے چین کر دے تو شاید یہی بے چینی ہماری قومی بیداری کی پہلی علامت ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر صرف جشن نہ منائیں، عہد بھی کریں۔ ہم پاکستان کو گالی نہیں دیں گے، اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ہم قانون کو کمزور نہیں کریں گے، اسے مضبوط کریں گے۔ ہم نفرت نہیں بانٹیں گے، اخوت پیدا کریں گے۔ ہم جھوٹ نہیں پھیلائیں گے، سچ کا ساتھ دیں گے۔ ہم مایوسی نہیں پھیلائیں گے، امید پیدا کریں گے۔ ہم اپنے بچوں کو صرف آزادی کی تاریخ نہیں پڑھائیں گے بلکہ آزادی کی ذمہ داری بھی سمجھائیں گے۔ کیونکہ پاکستان ہمیں صرف ورثے میں ملی ہوئی زمین نہیں, یہ ایک امانت ہے۔ اور امانت کا حق صرف یہ نہیں کہ اسے سنبھال کر رکھا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے بہتر حالت میں اگلی نسل کے حوالے کیا جائے۔ آزادی مبارک ہومگر ایسی آزادی مبارک ہو جو صرف پرچم میں نہیں، کردار میں نظر آئے؛ صرف نعروں میں نہیں، انصاف میں دکھائی دے؛ صرف تقریروں میں نہیں، عام آدمی کی زندگی میں محسوس ہو۔ یہی آزادی کے شہداء کے لیے حقیقی خراج ہے، یہی بزرگوں کی قربانیوں کا احترام ہے، یہی علماء اور اہلِ علم کی جدوجہد کا تقاضا ہے، اور یہی پاکستان سے سچی محبت ہے۔ پاکستان زندہ باد! پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ یومِ آزادی مبارک!



