رابعہ سید
پاکستانی معاشرے میں خواتین کی صحت سے متعلق بہت سے مسائل آج بھی گفتگو اور توجہ سے محروم ہیں۔ خاص طور پر وہ جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں جو عورت کی عمر کے مختلف مراحل میں رونما ہوتی ہیں، ان کے بارے میں نہ تو مناسب آگاہی عام ہے اور نہ ہی گھر اور معاشرے میں ان پر کھل کر بات کی جاتی ہے۔ مینوپاز، یعنی حیض کا مستقل طور پر بند ہو جانا، بھی ایسا ہی ایک قدرتی مرحلہ ہے جسے اکثر خواتین خود بھی مکمل طور پر نہیں سمجھتیں اور خاندان بھی اس دوران ہونے والی جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کو محض مزاج کی خرابی یا چڑچڑاپن سمجھ لیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مینوپاز کوئی بیماری نہیں بلکہ عورت کی زندگی کا ایک قدرتی حیاتیاتی مرحلہ ہے۔ تاہم اس مرحلے میں ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں جسم، ذہن، نیند، جذبات اور روزمرہ زندگی پر مختلف انداز میں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے مینوپاز کو سمجھنا صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ ان کے شوہروں، بچوں، خاندان اور پورے معاشرے کے لیے بھی ضروری ہے۔
رضیہ بی بی کی کہانی اسی حقیقت کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایک فرضی نام ہے، مگر اس کردار کے ذریعے ان بے شمار خواتین کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو زندگی کے اس مرحلے سے گزرتے ہوئے جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ تنہائی، بے چینی، جذباتی دباؤ اور معاشرتی غلط فہمیوں کا سامنا کرتی ہیں۔
رضیہ بی بی خیبر پختونخوا کے ایک شہری علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی عمر 42 سال ہے اور شادی کو 16 برس گزر چکے ہیں۔ ان کے شوہر روزگار کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتے ہیں، جس کے باعث رضیہ کو کئی مرتبہ تنہائی کا احساس بھی ہوتا رہا۔ شادی کے بعد اولاد نہ ہونا بھی ان کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہا جسے اگرچہ شوہر اور سسرال کی جانب سے کسی دباؤ کے بغیر قبول کیا گیا، لیکن معاشرتی رویوں نے اس احساس کو ختم نہیں ہونے دیا۔
پاکستانی معاشرے میں شادی کے فوراً بعد اولاد کی توقع ایک عام تصور ہے۔ جب کسی عورت کے ہاں اولاد نہ ہو تو بسا اوقات اسے براہِ راست کچھ نہ کہا جائے، تب بھی سوالات، ترس بھری نگاہیں اور معاشرتی توقعات اسے اندر سے متاثر کرتی رہتی ہیں۔ رضیہ بھی بظاہر ایک معمول کی زندگی گزار رہی تھیں، مگر اندر ہی اندر خود کو نامکمل محسوس کرتی رہیں۔
وقت کے ساتھ ان کی صحت کے مسائل بڑھنے لگے۔ دو، تین برس قبل ان کی ماہواری بے ترتیب ہونا شروع ہوئی اور شدید درد نے روزمرہ زندگی متاثر کرنا شروع کردی۔ ابتدا میں انہوں نے اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا، کیونکہ اردگرد کی خواتین بھی اکثر ماہواری کی بے ترتیبی اور درد کو عمر کے ساتھ آنے والی عام تبدیلی قرار دیتی تھیں۔ بعد ازاں طبی معائنے کے دوران انہیں پولی سسٹک اووریز سنڈروم، یعنی PCOS کی تشخیص ہوئی۔
مقامی سطح پر علاج کے باوجود جب ان کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہ آئی تو بڑے شہر میں مزید طبی معائنہ اور جدید تشخیصی سہولیات سے استفادہ کیا گیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ بچہ دانی اور بیضہ دانی میں رسولیاں موجود ہیں اور ان کا حجم تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ڈاکٹروں نے مزید پیچیدگیوں اور ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے سرجری کا مشورہ دیا۔
آپریشن کامیاب رہا، لیکن رضیہ کی زندگی میں ایک اور مرحلہ شروع ہوگیا۔ سرجری کے بعد ان کی جسمانی اور ذہنی کیفیت میں نمایاں تبدیلیاں آنے لگیں۔ کمزوری، بے خوابی، ہڈیوں میں درد، تھکن، موڈ میں اتار چڑھاؤ، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور شدید گھبراہٹ جیسی علامات نے انہیں پریشان کرنا شروع کردیا۔ بعض اوقات انہیں معمولی بات بھی بہت بڑی محسوس ہوتی اور وہ شدید جذباتی ردعمل کا اظہار کرتیں۔
یہ تبدیلیاں صرف رضیہ کی ذات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے قریبی رشتوں پر بھی اثر انداز ہونے لگیں۔ شوہر سے گہری وابستگی بعض اوقات غیر معمولی حساسیت میں تبدیل ہوجاتی، جبکہ دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے ان کے بدلتے ہوئے رویے کو سمجھنا مشکل تھا۔ نتیجتاً وہ خود کو مزید تنہا محسوس کرنے لگیں۔
بعد ازاں ان کی ذہنی کیفیت کا بھی جائزہ لیا گیا اور ڈپریشن کی علامات سامنے آئیں۔ نیند میں مسلسل خلل، یادداشت میں کمزوری، ہر وقت تھکن محسوس ہونا اور زندگی میں دلچسپی کم ہوجانا ان کی مشکلات میں شامل ہوگیا۔ ایسی صورتحال میں صرف جسمانی بیماری کا علاج کافی نہیں ہوتا بلکہ عورت کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق مینوپاز کے دوران جسم میں ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن، کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں، جو مختلف خواتین میں مختلف علامات کا باعث بن سکتی ہیں۔ بعض خواتین کو گرم لہروں یا اچانک گرمی محسوس ہونے، رات کو پسینہ آنے، نیند متاثر ہونے، موڈ میں تبدیلی، چڑچڑاپن، بے چینی، تھکن، وزن میں تبدیلی اور جنسی صحت سے متعلق مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کچھ خواتین میں ہڈیوں کی صحت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر عورت میں تمام علامات ظاہر ہوں یا ان کی شدت یکساں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مینوپاز کو صرف ایک مخصوص عمر یا چند علامات تک محدود کرنے کے بجائے ہر عورت کے انفرادی تجربے کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مینوپاز عام طور پر 40 سے 55 سال کی عمر کے دوران مختلف مراحل میں آسکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر قدرتی مینوپاز کی اوسط عمر تقریباً 51 سال تصور کی جاتی ہے۔ اگر ماہواری مسلسل 12 ماہ تک نہ آئے تو اسے عام طور پر مینوپاز کہا جاتا ہے، تاہم سرجری یا بعض طبی وجوہات کے باعث یہ مرحلہ اس سے پہلے بھی شروع ہوسکتا ہے۔ اس لیے غیر معمولی یا اچانک تبدیلیوں کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
مینوپاز سے گزرنے والی عورت کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، بہتر نیند اور ذہنی سکون خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید ہوسکتی ہے، جبکہ باقاعدہ ورزش جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی کیفیت بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ تاہم کسی بھی سپلیمنٹ یا ہارمونل علاج کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
اس مرحلے میں خاندان کا رویہ بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ایک عورت اچانک زیادہ حساس، خاموش، پریشان یا چڑچڑی محسوس ہو تو ہر بار اسے بدتمیز، ضدی یا مشکل مزاج قرار دینا مسئلے کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔ اس کے بجائے اس کی بات سننا، اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور ضرورت پڑنے پر طبی یا نفسیاتی مدد حاصل کرنے میں اس کا ساتھ دینا زیادہ مؤثر رویہ ہے۔
خاص طور پر شوہروں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مینوپاز کے دوران عورت کے اندر ہونے والی تبدیلیاں اس کی شخصیت یا محبت میں کمی کا لازمی ثبوت نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات جسمانی تکلیف، ہارمونل تبدیلی، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ اس کے رویے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایسے وقت میں تنقید کے بجائے صبر، گفتگو اور جذباتی تعاون رشتے کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
اسی طرح خواتین کو بھی اپنے جسم میں آنے والی تبدیلیوں پر خاموش رہنے کے بجائے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہییں۔ ماہواری میں غیر معمولی تبدیلی، مسلسل یا شدید درد، غیر معمولی خون بہنا، شدید ڈپریشن، بے چینی یا دیگر تشویش ناک علامات کو صرف "عمر کا حصہ” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت طبی مشورہ بہت سے مسائل کی تشخیص اور علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
رضیہ کی کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مینوپاز عورت کے بدل جانے کی کہانی نہیں، بلکہ اس کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی ضرورت کی کہانی ہے۔ وہ شاید پہلے جیسی نظر نہ آئے، اس کا مزاج پہلے جیسا نہ رہے یا اس کے جسم میں ایسی تبدیلیاں آئیں جنہیں وہ خود بھی سمجھنے میں وقت لے، لیکن اس مرحلے پر اسے سب سے زیادہ ضرورت تنقید کی نہیں بلکہ سمجھ، محبت، احترام اور تعاون کی ہے۔
معاشرہ اگر خواتین کی صحت کے اس اہم مرحلے پر خاموشی توڑ دے اور مینوپاز کے بارے میں کھلی اور باوقار گفتگو کو فروغ دے تو بے شمار خواتین غیر ضروری خوف، شرمندگی اور تنہائی سے بچ سکتی ہیں۔ صحت کے نظام میں بھی مینوپاز کو خواتین کی مجموعی صحت کا اہم حصہ سمجھتے ہوئے آگاہی، مشاورت اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔
مینوپاز اختتام نہیں، زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ اس مرحلے کو بیماری، کمزوری یا مزاج کی خرابی کے بجائے ایک قدرتی تبدیلی کے طور پر سمجھا جائے۔ عورت کی کیفیت کو سنا جائے، اس کے جذبات کا احترام کیا جائے اور اسے یہ یقین دلایا جائے کہ وہ اس سفر میں اکیلی نہیں ہے۔
وہ بدل نہیں رہی… اس کے اندر کچھ بدل رہا ہے۔
اور اس تبدیلی کے وقت اسے سب سے زیادہ ضرورت ہے: سمجھنے والے دل، سننے والے کان اور ساتھ دینے والے ہاتھوں کی۔



