صفورا امجد
14 اگست 1947 وہ دن جو تاریخ پر نقش چھوڑ گیا۔ یہ دن صرف جشن منانے یا قومی پرچم لہرانے کا نہیں بلکہ عظیم قربانیوں اور کاوشوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔ یہ دن ایک عظیم جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا . آج آزادی کی کئ دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا هم واقعی آزاد ہیں؟ کیا ھم نے آزادی کی حقیقی قدر کی ہے؟
آزادی ہمیں ورثے میں نہیں ملی بلکہ لازوال قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی۔ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی ، جان و مال کی قربانیاں دیں تاکہ آنے والی نسلیں آزادی کی فضاء میں سانس لے سکیں۔
آج کے دن صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد نہ کریں بلکہ مستقبل کے لیے ذمہ داریوں کا تعین کریں۔ ہمیں ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے امن اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ۔ کیونکہ قوموں کی ترقی باتوں یا نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ ہر شخص کو انفرادی طور پر اپنی ذمہ داری نبھانا پڑتی ھے.
ایک مضبوط ملک صرف حکومت کی کوششوں سے نہیں بلکہ ہر شہری کے کردار اور قومی اتحاد سے بنتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج ہم نفرت انگیز تقاریر ، جھوٹی خبروں،کرپشن ،اخلاقی زوال اور سماجی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یوم آزادی یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک بہترین ملک کی بنیاد باہمی اتحاد ، ذمہ دارانہ طرز عمل اور قومی یکجہتی پر استوار ہوتی ہے ۔
یوم آزادی اپنے وطن سے محبت ، وفاداری اور ذمہ داری کا احساس فراہم کرتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں ۔ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تاکہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھے کیونکہ یہی آزادی کا اصل پیغام اور شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے وطن پاکستان کو امن ، ترقی ، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے ۔ آمین

