رپورٹ: سدرہ اشرف
ریلوے حکام کی جانب سے ملتان ریلوے گراؤنڈ میں رکھشا بندھن کس تہوار منانے کی زبانی منظوری دے کرعین تہوار کے موقع پر ملتان کی ہندو برادری کو سامان لپیٹ پر تقریب نہیں کرنے دینے کا انکشاف ۔ دل آزاری اور فنڈز نہ ملنے پر پر ہندو برادری ریلوے حکام ،حکومت اور عوامی منتخب نمائندوں سے نالاں۔
اس حوالے سے ہندو برادری کی رہنما شکنتلا دیوی کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔
ویڈیو میںشکنتلا دیوی کا کہنا ہے جب ہمارا رکشابندھن کا تہوار آیا ہم نے ریلوے کے افسران کو درخواست دی ہے تو انہوں نے ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ آپ ریلوے روڈ پہ اپنے رکشابندھن کا تہوار منا سکتے ہیں، لیکن جب ہم وہاں اپنا سامان اٹھا کر گئے تو انہوں نے کہا کہ آپ کو کوئی اجازت نہیں ہے آپ یہاں کوئی تہوار نہیں منا سکتے اپنا سامان اٹھاؤ ورنہ جا کر پھینک دوں گا۔
شکنتلا دیوی کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا رویہ اور ایسا سلوک کیوں اختیار کیا گیا ۔ہم پاکستانی ہیں۔ ہم سب پاکستان قوم ہیں ہم مذہب نہیں دیکھتے تو آپ سب بھی نہ دیکھیں۔ یہ گلی ہے 8 فٹ کی یہاں پہ ہم نے اپنے رکشابندھن کا میلا منایا لوگ گر رہے تھے تو ایسے حالات میں ہم نے رکشابندھن کی رسومات ادا کی تھی ۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم پاکستانی وہ پاکستانی ہیں جو یہاں پیدا ہوئے ہم یہی رہ گئے ہمارے بہت بزرگ ہیں جو پارٹیشن کے وقت وہاں چلے گئے ۔ تو ہم پاکستانی ہیں ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے تو پاکستانیوں کا ایسا رویہ ہمارے ساتھ ہو تو ہمیں دکھ ہوتا ہے تکلیف ہوتی ہے ہم بھی برداشت نہیں کرتے جہاں پاکستان کھڑا ہے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں جہاں پاکستانی آرمی کھڑی ہے ہم ان کے ساتھ ہے ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے۔ جہاں پاکستان کھڑا ہے وہاں اس کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہیں.
انسانی حقوق کے رہنماؤںکا کہنا ہے کہ ملتان ہمیشہ سے بین المذاھب ہم آہنگی کی مثال رہا ہے تاہم ہندو برادری برسوں سے ملتان میں مسائل کا شکار ہے اور ان کی مذہبی آزادی پر پابندیاں ختم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں.