ایمان عرفان
دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد اب صرف گھروں، گلیوں اور دفاتر تک محدود نہیں رہا، بلکہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی نے اسے ڈیجیٹل دنیا تک پھیلا دیا ہے، جہاں آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، ’’ڈیپ فیک‘‘ ویڈیوز، سائبر اسٹاکنگ اور ٹرولنگ خواتین کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
عالمی اداروں کے مطابق ہر 10 منٹ بعد ایک عورت یا لڑکی کسی ایسے شخص کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے جس پر وہ بھروسہ کرتی ہے، جبکہ اب تشدد کی ایک نئی اور زیادہ جارحانہ شکل آن لائن پلیٹ فارمز پر سامنے آ رہی ہے۔
اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں:
🔸 38 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار آن لائن ہراسانی یا بدسلوکی کا سامنا کرتی ہیں۔
🔸 73 فیصد خواتین صحافیوں کو صرف اپنے پیشہ ورانہ کام کے باعث دھمکیاں ملتی ہیں۔
🔸 90 فیصد ’’ڈیپ فیک‘‘ جنسی مواد خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔
🔸 دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسگی کے خلاف مؤثر قوانین موجود ہیں، جس کے باعث 1.8 ارب خواتین اور لڑکیوں کے پاس ڈیجیٹل تحفظ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے ’’تشدد کے خاتمے کے لیے 16 روزہ مہم‘‘ (25 نومبر تا 10 دسمبر) کے موقع پر عالمی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل صنفی تشدد کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
✔ حکومتوں کو سائبر قوانین مضبوط اور مؤثر بنانا ہوں گے۔
✔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پلیٹ فارمز محفوظ بنانے ہوں گے۔
✔ معاشرے کو متاثرہ خواتین کا ساتھ دینا ہوگا۔
✔ اور عام شہریوں کو آن لائن بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تشدد بھی حقیقی تشدد ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اجتماعی کوششوں سے ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے کو روکا جا سکتا ہے۔
#NoExcuse #16DaysOfActivism