رپورٹ:زریں راجپوت
پاکستان میں کم عمری کی شادی اور بچوں کے حقوق سے متعلق قومی سطح پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازع بیان نے نئی بحث چھیڑ دی۔
مولانا فضل الرحمان نے چائلڈ رائٹس ایکٹ کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم عمری کی شادی کے حق میں ہیں، کیونکہ ان کے مطابق اس سے نکاح کو فروغ ملتا ہے اور معاشرے میں بدکاری میں کمی آتی ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کو مذہبی طور پر درست قرار دیا۔
اس بیان کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان، سول سوسائٹی اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بچوں، بالخصوص بچیوں، کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، تعلیم اور مستقبل کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔
ماہرین کے مطابق چائلڈ رائٹس ایکٹ کا بنیادی مقصد بچوں کو استحصال، جبری شادیوں اور سنگین صحت کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ کم عمری کی شادی کے نتیجے میں اکثر بچیاں تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کم عمری میں حمل، گھریلو تشدد اور طویل المدتی سماجی ناہمواری جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اگرچہ بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے اس بیان کا دفاع کیا جا رہا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ نکاح کو آسان بنانے سے معاشرتی برائیاں کم ہو سکتی ہیں، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ قوانین کو نظر انداز کرنا نہ صرف قانونی نظام کو کمزور کرے گا بلکہ کمزور اور ناتواں بچوں کو مزید خطرات سے دوچار کر دے گا۔
یہ صورتحال اہم سوالات کو جنم دیتی ہے:
کیا مذہبی رائے آئینی اور قانونی ضوابط پر فوقیت حاصل کر سکتی ہے؟
اور کیا بچوں کے بنیادی حقوق پر کبھی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس حساس معاملے پر سنجیدہ، ذمہ دار اور ملک گیر مکالمے کی فوری ضرورت ہے، تاکہ بچوں کے حقوق، قانون کی بالادستی اور معاشرتی اقدار کے درمیان ایک متوازن راستہ نکالا جا سکے۔