جب ہمت بولتی ہے: پاکستان میں معذوری پر سچی اور توانا آواز

رپورٹ: سدرہ اشرف

ملتان — پاکستان میں معذوری کے مسائل، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مشکلات، آج بھی نظرانداز کیے جانے والے حقائق میں شمار ہوتے ہیں۔ لب آزاد ٹیم سے خصوصی گفتگو میں زاہدہ حمید قریشی، بانی و صدر سوسائٹی فار اسپیشل پرسنز، نے معذور افراد کی روزمرہ زندگی کے اُن پہلوؤں کو بیان کیا جنہیں معاشرہ دیکھتا تو ہے، مگر سمجھتا نہیں۔

گفتگو میں زاہدہ حمید قریشی نے نہایت درد مندی اور حقیقت پسندی کے ساتھ جن اہم مسائل کی نشاندہی کی، ان میں پاکستان میں معذوری سے متعلق درست اور جامع ڈیٹا کا نہیں ہونا، پالیسی سازی میں شمولیتی منصوبہ بندی اور درست ڈیٹا جمع کرنے کی فوری ضرورت، معذور خواتین کی روزمرہ رکاوٹیں — ناقابل رسائی واش رومز، نقل و حرکت کے مسائل، اور معاون سہولتوں کی کمی، ذہنی معذوری کی شکار لڑکیوں کی کیمپوں میں افسوسناک حالت، خاندانوں، خصوصاً ماؤں پر جذباتی اور مالی بوجھ، ٹوائلٹ وہیل چیئرز، قابلِ رسائی شیلٹر ہومز اور خصوصی نگہداشت کی فوری ضرورت شامل ہے، زاہدہ حمید نے ملک بھر میں اٹینڈنٹ سروسز، اسکل ڈویلپمنٹ اور معاشی شمولیت کا مطالبہ بھی کیا.

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ:
"رسائی، عزت اور شمولیت کوئی احسان نہیں — یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں۔”

یہ مکالمہ معاشرے، حکومت، اور پالیسی سازوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ معذور افراد کو صرف ہمدردی نہیں، باوقار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع درکار ہیں۔

یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معذوری رکھنے والے افراد کو وہ ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ زندگی گزار سکیں، ترقی کر سکیں، اور حقیقی طور پر نظر آ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں