جب ڈرامہ پرانا زخم ہرا کر دے… سچائی پھر بھی بلند آواز میں بولتی ہے

رپورٹ: انیلہ اشرف

پاکستان کی بہادر ترین خواتین میں شمار ہونے والی مختار مائی نے جیو ٹی وی کے ڈرامہ ’’کیس نمبر 9‘‘ دیکھنے کے بعد ایک بار پھر اپنی زندگی کے اُس دردناک باب کو محسوس کیا ہے جسے وہ 22 برس سے اپنے دل میں اٹھائے پھر رہی ہیں۔

تشدد، ناانصافی اور ایک ایسے نظام کے خلاف جدوجہد جس نے عورتوں کو تحفظ دینے میں بارہا ناکامی دکھائی، مختار مائی کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ ڈرامہ دیکھتے ہوئے اُن کے سامنے وہ لمحات دوبارہ زندہ ہوگئے، جنہوں نے انہیں ایک عام دیہاتی عورت سے ملک بھر کی مظلوم خواتین کی آواز بنا دیا۔

مختار مائی نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ:

ڈرامے نے اُن کے پرانے زخم اور صدمے کو دوبارہ جگا دیا

کیوں برسوں بعد بھی زیادتی کے متاثرین انصاف کے لیے ترستے رہتے ہیں

وہ بوجھ جو ایک عورت دل میں اٹھائے زندگی گزارتے ہوئے کبھی کم نہیں ہوتا

پاکستان میں تاخیر سے ہونے والا انصاف کس طرح ظلم کو بڑھاتا ہے

اور کیوں مجرموں کو سزا نہ ملنے سے واقعات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا

اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک عورت کا رونا نہیں — یہ ہر اُس متاثرہ خاتون کی کہانی ہے جو عدالتوں، دہلیزوں اور سماجی دباؤ کے درمیان انصاف کی منتظر رہتی ہے۔

اس رپورٹ میں سامنے آنے والی حقیقت ایک کڑوا مگر لازمی سوال چھوڑتی ہے:
تشدد ختم کیوں نہیں ہوتا؟
کیونکہ واقعہ تو چند لمحوں کا ہوتا ہے — مگر اس کا درد برسوں، نسلوں اور یادوں میں زندہ رہتا ہے۔

آخر میں مختار مائی نے معاشرے سے اپیل کی:
"خواتین کا ساتھ دیں، انصاف کا مطالبہ کریں، خاموشی کے اس ظالمانہ سلسلے کو ختم کریں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں