سدرہ اشرف
ملک بھر میں جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ماہرینِ سماجیات اور انسانی حقوق تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تشدد کی تین بڑی اقسام—جسمانی، ذہنی اور جنسی—افراد کی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات چھوڑ رہی ہیں جبکہ بیشتر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
اعداد و شمار کے مطابق ذہنی یا جذباتی تشدد سب سے زیادہ عام ہے، جس میں مسلسل بے عزتی، دھمکیاں، خوف، تذلیل، کنٹرولنگ رویے اور نفسیاتی دباؤ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کا تشدد انسان کے اعتماد، ذہنی سکون اور شخصیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور اکثر افراد اسے تشدد سمجھتے ہی نہیں جس کے باعث یہ سب سے زیادہ نظر انداز رہتا ہے۔
دوسری جانب جسمانی تشدد میں مارپیٹ، دھکے، گلا دبانا، زبردستی پکڑ کر رکھنا یا ایسا کوئی بھی عمل شامل ہے جو جسمانی نقصان پہنچائے۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق گھریلو سطح پر ہونے والے زیادہ تر جھگڑے جسمانی تشدد میں تبدیل ہو جاتے ہیں مگر متاثرہ افراد خوف یا معاشرتی دباؤ کے باعث شکوہ تک نہیں کر پاتے۔
تیسری اور انتہائی سنگین شکل جنسی تشدد ہے جس میں ناپسندیدہ جنسی رابطہ، ہراسانی، غلط لمس، ریپ، استحصال اور آن لائن جنسی بلیک میلنگ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں کم سن بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ تشدد صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتی سطح پر آگاہی مہمات، نفسیاتی معاونت، بہتر قانون سازی اور فوری انصاف کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ متاثرین کی حفاظت اور بحالی یقینی بنائی جا سکے۔