رپورٹ: انیلہ اشرف
ملتان کی گلیوں اور بازاروں میں آج بھی سردیوں کی آمد کے ساتھ جس خوشبو کا انتظار کیا جاتا ہے، وہ ڈولی روٹی کی ہے — ایک ایسی روایتی سوغات جو صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیبی ورثے کی علامت ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق ڈولی روٹی کا آغاز اُس دور میں ہوا جب سفر طویل، راستے دشوار اور محفوظ خوراک نایاب ہوا کرتی تھی۔ ملتان اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں یہ روٹی خاص طور پر شادی بیاہ کے موقع پر دور دراز سے آنے والی باراتوں کو واپسی پر تحفے کے طور پر دی جاتی تھی۔ اس روٹی کی خاص بات یہ تھی کہ یہ سفر میں خراب نہیں ہوتی، نرم رہتی اور کئی دنوں تک قابلِ استعمال رہتی تھی۔
قدیم زمانوں میں جب لوگ جنگوں یا طویل سفروں پر روانہ ہوتے، تو گھروں میں خصوصی طور پر ڈولی روٹی تیار کی جاتی تھی۔ خالص تیل یا گھی میں پکائی جانے والی یہ روٹی توانائی سے بھرپور ہوتی، پیٹ دیر تک بھرے رکھتی اور سخت موسم یا لمبے سفر میں بھی خراب نہیں ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے یہ روٹی عام غذا کے بجائے سفر کی ساتھی سمجھی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ جیسے جیسے معاشرہ بدلا، ڈولی روٹی بھی روایت سے جدت کی جانب بڑھی۔ ابتدا میں سادہ ڈولی روٹی بنائی جاتی تھی، مگر بعد ازاں اس میں ذائقے اور اجزاء کا اضافہ ہوا۔ آج ملتان کی ڈولی روٹی نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے پاکستان میں اپنی پہچان بنا چکی ہے۔
موجودہ دور میں خشخاش والی اور باداموں والی ڈولی روٹی سب سے زیادہ مقبول ہیں، جبکہ جدید ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اس میں کھویا، بادام، ڈرائی فروٹس اور زعفران بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ یہ نئی اقسام اگرچہ جدت کی علامت ہیں، مگر ان میں بھی روایت کی خوشبو برقرار ہے۔
ماہرینِ ثقافت کے مطابق ڈولی روٹی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک سادہ دیہی خوراک وقت کے ساتھ تہذیبی شناخت بن جاتی ہے۔ آج بھی ملتان آنے والا مسافر ڈولی روٹی کو اپنے ساتھ لے جانا نہیں بھولتا، کیونکہ یہ روٹی صرف ذائقہ نہیں بلکہ یادوں کا تحفہ ہے۔
ڈولی روٹی —
ملتان کی ثقافت،
ملتان کی روایت،
اور وقت کے ساتھ زندہ رہنے والا ذائقہ۔