لاہور:پاکستان کی معروف قانون دان، ڈیجیٹل حقوق کی علمبردار اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (DRF) کی بانی و ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ انہیں سال 2026 کی باوقار بین الاقوامی فہرست ‘چیف ان اے آئی 100’ (Chief in AI 100) میں شامل کیا گیا ہے۔
نگہت داد اس سال یہ تاریخی اعزاز حاصل کرنے والی واحد پاکستانی شخصیت ہیں۔یہ عالمی فہرست آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے شعبے میں اخلاقیات، برابری، ذمہ دارانہ استعمال اور محفوظ عالمی گورننس کے فروغ کے لیے کام کرنے والے دنیا کے 100 اعلیٰ ترین رہنماؤں اور مینیجرز پر مشتمل ہے۔
نگہت داد کو یہ اعزاز عالمی سطح پر اے آئی (AI) پالیسیوں کو انسانی حقوق کے عین مطابق ڈھالنے اور ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
نگہت داد کا ڈیجیٹل حقوق اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں کام طویل عرصے پر محیط ہے، جس کے اعتراف میں انہیں ماضی میں بھی کئی بڑے عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے. نگہت داد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے قائم کردہ ہائی لیول ایڈوائزری باڈی آن آرٹیفیشل انٹیلیجنس (UN AI Advisory Body) کی رکن رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے اے آئی کے عالمی ضابطہ اخلاق کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی میٹا (سابقہ فیس بک) کے عالمی اوور سائٹ بورڈ (Oversight Board) کے بانی اراکین میں شامل ہیں، جو آزادیِ اظہارِ رائے اور آن لائن مواد کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔سال 2015 میں امریکی جریدے ‘ٹائم’ نے نکہت داد کو دنیا بھر میں آن لائن ہراسگی کے خلاف لڑنے پر "نیکسٹ جنریشن لیڈر” قرار دیا تھا۔
انٹرنیٹ پر شہریوں کے حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے کے تحفظ کے لیے انہیں اٹلانٹک کونسل کی جانب سے ڈیجیٹل فریڈم ایوارڈ (Digital Freedom Award) سے بھی نوازا گیا۔حکومتِ ہالینڈ کی جانب سے انہیں انسانی حقوق کے تحفظ، خصوصاً انٹرنیٹ پر خواتین کی سیکیورٹی کے لیے کام کرنے پر اس باوقار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا کہ "اے آئی 100 فہرست میں شامل ہونا صرف میرا نہیں، بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے ہر شخص کا اعزاز ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مستقبل ایسا ہونا چاہیے جو سب کے لیے محفوظ، منصفانہ اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والا ہو، اور میں اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گی۔
