WhatsApp Image 2026 08 16 at 04.50.36

پاکستان میں محبوس انڈونیشی خاتون برآمد، سفارتخانے کے حوالے کرنے کا حکم

حیدرآباد:قاسم آباد میں پاکستانی شوہر کے ہمراہ رہائش پذیر انڈونیشین خاتون کی جانب سے اپنے سفارتخانے سے رجوع کرنے کے بعد معاملہ عدالت پہنچ گیا۔

حیدرآباد پولیس نے خاتون کو حفاظتی تحویل میں لے کر سکسھ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں خاتون کا بیان قلمبند کیا گیا۔ عدالت نے بیان سننے کے بعد خاتون کو اس کے کمسن بچے سمیت انڈونیشین سفارتی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ نسیم نگر کی حدود قاسم آباد میں اپنے پاکستانی شوہر کے ہمراہ رہائش پذیر انڈونیشین شہری خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی تعلق برقرار رکھنے سے انکار کرتے ہوئے انڈونیشیا واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

خاتون نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان میں اپنے شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی اور اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہے، تاہم سسرالی اسے واپس جانے سے روک رہے ہیں۔دوسری جانب خاتون کے سسرالیوں نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون دو ماہ کے کمسن بچے کی ماں ہے اور بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خاتون سے کہا تھا کہ اگر وہ پاکستان سے واپس جانا چاہتی ہے تو بچے کو بھی اپنے ساتھ لے جائے، یا بچے کی عمر چھ ماہ ہونے تک پاکستان میں قیام کرے، تاہم خاتون نے دونوں تجاویز سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے سفارتخانے سے حبسِ بے جا میں رکھنے کی شکایت کردی۔

زرائع کے مطابق انڈونیشین خاتون کی جانب سے محکمہ ترقیِ نسواں کے شکایتی سیل سے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اسے شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان لایا گیا اور مبینہ طور پر ایک مقام پر روک کر رکھا گیا، جبکہ اس کا پاسپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات بھی اپنے قبضے میں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔شکایت موصول ہونے پر محکمہ ترقیِ نسواں کے شکایتی سیل حیدرآباد کی انچارج نسرین پلیجو نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رابطہ کیا اور تھانہ نسیم نگر سے خاتون کی بازیابی کے لیے درخواست کی۔

پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر تحریری جواب میں بتایا گیا کہ متعلقہ مقام پرانڈونیشین خاتون موجود نہیں ہے، جس کے بعد محکمہ ترقیِ نسواں کے شکایتی سیل کی جانب سے عدالت سے رجوع کیا گیا۔عدالتی احکامات کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بازیاب کرکے حفاظتی تحویل میں لیا اور آج عدالت میں پیش کیا۔ عدالت میں انڈونیشین خاتون کا بیان قلمبند کیا گیا، جس میں اس نے اپنے پاکستانی شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی زندگی جاری نہ رکھنے اور اپنے وطن واپس جانے کی خواہش ظاہر کی۔عدالت نے خاتون کے بیان اور معاملے کے دیگر پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس کے کمسن بچے سمیت انڈونیشین سفارتی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
WhatsApp Image 2026 07 21 at 11.42.37
عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انڈونیشین سفارتی حکام خاتون اور بچے کو اپنے ہمراہ لے کر کراچی روانہ ہوگئے۔

زرائع کے مطابق انڈونیشین خاتون اندا مرلین کی ستمبر 2025 میں حیدرآباد کے قاسم آباد کے رہائشی پاکستانی نوجوان مرزا حمزہ سے انڈونیشیا میں شادی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان آگئی، بعدازاں خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ بچے کی پیدائش کے بعد میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور معاملہ بالآخر سفارتی حکام، محکمہ ترقیِ نسواں، پولیس اور عدالت تک پہنچ گیا۔

محکمہ ترقیِ نسواں کے شکایتی سیل کی انچارج نسرین پلیجو نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنا یا مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنا سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے محکمہ ترقیِ نسواں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔نسرین پلیجو کا مزید کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو محکمہ ترقیِ نسواں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنانا چاہیے تاکہ خواتین کو بروقت تحفظ اور انصاف فراہم کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں