جب عدلیہ بھی محفوظ نہ رہی: خواتین ججز کے خلاف آن لائن ٹرولنگ پر تشویش

انیلہ اشرف

پاکستان میں خواتین کے خلاف آن لائن ہراسمنٹ اور کردار کشی ایک سنگین قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو صرف کسی ایک طبقے یا شعبے تک محدود نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم یا بااثر عہدوں پر فائز خواتین منظم ٹرولنگ، الزامات اور نفرت انگیز مہمات کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر سابق وزیرِاعظم محترمہ بے نظیر بھٹو تک، بااثر خواتین کو کردار کشی اور نفرت انگیز مہمات کا سامنا رہا۔ اب یہی روایت عدلیہ تک پہنچ چکی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس عبہر گل خان سوشل میڈیا پر منظم ہراسمنٹ اور الزامات کی زد میں ہیں، جسے ماہرین ریاستی اداروں کی ساکھ پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 73 فیصد خواتین صحافی آن لائن ہراسمنٹ کا شکار ہو چکی ہیں، تاہم بیشتر متاثرہ خواتین بدنامی کے خوف، انصاف پر عدم اعتماد اور پیچیدہ قانونی عمل کے باعث شکایت درج نہیں کراتیں۔

ماہرین کے مطابق آن لائن ہراسمنٹ کی عام صورتوں میں کردار کشی، جعلی تصاویر و ویڈیوز (ڈیپ فیکس)، ریپ اور قتل کی دھمکیاں، مذہب اور عزت کے نام پر نفرت انگیز مہمات اور خاندان کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ یہ تمام عمل ڈیجیٹل تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔

سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ سائبر قوانین، خصوصاً پیکا (PECA) پر فوری اور غیرجانبدار عملدرآمد کیا جائے، آن لائن کردار کشی کو سنگین جرم قرار دیا جائے اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو خواتین افسران، فوری رسپانس میکانزم اور ضلعی سطح پر دفاتر کے ساتھ مضبوط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں میں خواتین کے خلاف ہراسمنٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ خواتین کی آواز دبانے سے معاشرہ کمزور ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموشی مجرم کو طاقت دیتی ہے، متاثرہ کو نہیں۔ محفوظ خواتین ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں