ہر رکاوٹ عبور کر کے ٹرانس جینڈر پولیس اہلکار بننے کی زندہ کہانی

رپورٹ: انیلہ اشرف

لاہور کی ٹرانس جینڈر پولیس افسر زنایا کی دلیرانہ جدوجہد پر مبنی ایک خصوصی گفتگو نے معاشرتی رویّوں اور پختہ تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس انٹرویو میں زنایا نے اپنے سفرِ حیات، شناخت اور بااختیاری کی کہانی نہایت جرات مندی سے بیان کی—ایک ایسی کہانی جو پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی حقیقی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہے۔

زنایا نے بتایا کہ کس طرح ابتدائی تعلیم کے دوران انہیں دھمکیاں، نفرت انگیزی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ اساتذہ کی عدم حساسیت نے مشکلات کو مزید بڑھایا۔ لیکن انہی چیلنجز کو انہوں نے ہمت، خود اعتمادی اور محنت کے ذریعے اپنی طاقت بنا لیا۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے معاشرے میں پھیلی عام غلط فہمیوں کو بھی رد کیا—خصوصاً یہ تاثر کہ ٹرانس جینڈر افراد صرف بھیک مانگنے یا ناچ گانے تک محدود ہیں۔ زنایا کے مطابق اگر تعلیم، مواقع اور قبولیت فراہم کی جائے تو یہی افراد معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

زنایا نے گفتگو میں پاکستان میں ٹرانس جینڈر شناخت اور سماجی تعصبات، تعلیم کے میدان میں رکاوٹیں اور حساس اساتذہ کی ضرورت، روزگار کے مواقع اور معاشرتی رکاوٹوں کا ٹوٹنا، تشدد، ہراسانی اور ڈیجیٹل سیفٹی جیسے مسائل،
خاندان کی قبولیت اور سپورٹ کی اہمیت، پنجاب میں وکٹم سپورٹ آفیسر سسٹم کی افادیت پر روشنی ڈالی.

زنایا کا پیغام نہایت واضح اور مضبوط تھا:
⭐ “کوئی بہانہ نہیں!”
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو بدلیں، تعصبات کو چیلنج کریں اور برابر کی عزت و انسانیت کے ساتھ سب کو قبول کریں۔

اگر آپ بیداری، بااختیاری اور حقیقی تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں—تو یہ گفتگو آپ کے لیے ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں