رپورٹ: انیلہ اشرف
ملتان میں روٹس لرننگ اور سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کی روک تھام سے متعلق ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پنجاب بھر کے متعلقہ اداروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد صنفی تشدد کے خلاف کام کرنے والے اداروں کی کارکردگی، چیلنجز اور اصلاحات پر جامع تبادلہ خیال تھا۔
تقریب میں جن اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے اُن میں شامل ہیں:
یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (UNDP)
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR)
نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW)
پنجاب آئی ٹی بورڈ
محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب
پنجاب پولیس اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ
ویمن پروٹیکشن سینٹرز (VAWC)
اساتذہ، وکلاء، محققین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان
ورکشاپ کے دوران روٹس لرننگ نے اپنی تحقیق پیش کی جس میں پنجاب میں جی بی وی سے نمٹنے والے اداروں کے مینڈیٹ، درپیش مسائل اور عملی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا۔
شرکاء نے درج ذیل اہم مسائل کی نشاندہی کی:
محکموں کے درمیان مؤثر روابط اور باہمی ہم آہنگی کا فقدان
تربیت اور وسائل کی کمی
بحران کے وقت فوری ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت
ورکشاپ میں اہم سفارشات بھی پیش کی گئیں، جن میں شامل ہیں:
اینٹی ریپ کرائسز سیلز اور ویمن پروٹیکشن سیلز کو مزید مضبوط بنانا
تمام متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کے لیے اعلیٰ سطحی کوآرڈینیشن فورم کا قیام
کامران راجر، کلثوم ثاقب، ذیشان نوئل، زہرہ کمال، ڈاکٹر آئرا اینڈریاس سمیت دیگر مقررین نے زور دیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مضبوط پالیسی اور مؤثر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔
یہ قدم بااختیار معاشرے کی جانب ایک اہم پیش رفت کو اجاگر کرتا ہے۔