رپورٹ: انیلہ اشرف
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے ریجنل آفس ملتان کے زیرِ اہتمام ہونے والے پُرامن احتجاج کے بعد سامنے آنے والی اس گفتگو میں ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کے والد اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے سسر نے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نوجوان وکلاء کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران محمد علی چٹھہ نے کہا کہ ہادی علی چٹھہ کی زندگی کا محور ہمیشہ انسانی خدمت اور مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑا ہونا رہا ہے۔ ان کے مطابق اسکول کے زمانے سے لے کر عملی زندگی تک ہادی نے مستقل طور پر غریب اور محروم افراد کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے نیو کیسل سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، ممتاز انسانی حقوق کی علمبردار مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کام کیا اور پاکستان سمیت بیرونِ ملک بھی انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔
انہوں نے دو نوجوان وکلاء کو درپیش حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کیریئر کا آغاز ہی ہوا ہے، تاہم ان کی جدوجہد کسی سیاسی مفاد یا ذاتی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ سچ، انصاف اور انسانی وقار کے لیے وابستگی کا اظہار ہے۔
ایمان مزاری کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل سوال ذاتی حملے نہیں بلکہ یہ ہے کہ آنے والی نسل کو کون سی اقدار منتقل کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کو سچ کے راستے پر چلنے کی تعلیم دینا ہی سب سے بڑی رہنمائی ہے۔
اگرچہ ابھی تک خاندانوں کی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی، تاہم اس کے باوجود اہلِ خانہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فخر سے کہا:
“انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس نے ہمیں سر فخر سے بلند رکھنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”