رپورٹ: انیلہ اشرف
پاکستان میں خواتین کو درپیش تشدد، ہراسگی اور انصاف تک رسائی کے مسائل پر نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کی رکن اور فورمین کرسچن کالج یونیورسٹی لاہور کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائرہ امتیاز نے ایک خصوصی انٹرویو میں کئی اہم حقائق بے نقاب کیے۔
ڈاکٹر عائرہ کے مطابق، پاکستان میں خواتین کے لیے قانونی راستے موجود ضرور ہیں لیکن عملی انصاف تک رسائی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پاکستان میں قوانین مضبوط ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کمزور”—اور یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
خواتین شواہد کیوں محفوظ نہیں کرتیں؟
ڈاکٹر عائرہ کا کہنا تھا کہ خواتین کے جھجھکنے کی بنیادی وجوہات میں خاندان اور معاشرے کا دباؤ، ’’عزت‘‘ کے نام پر لگائی جانے والی خاموشی، پولیس اور عدالتی نظام پر عدم اعتماد، تشدد کو معمول سمجھنے کا رویہ شامل ہے.
انہوں نے معاشرے سے مطالبہ کیا کہ تشدد کو ’’روایت‘‘ یا ’’گھر کا معاملہ‘‘ کہہ کر نظر انداز کرنے کی سوچ کو ختم کیا جائے۔
جامعات، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار اہم
ڈاکٹر عائرہ نے واضح کیا کہ یونیورسٹیاں، میڈیا ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس حوالے سے آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، نوجوان نسل میں گفتگو اور رپورٹنگ کا حوصلہ بڑھانا نہایت ضروری ہے۔
NCSW کی اہم کوششیں اور نئے اقدامات
انٹرویو میں ڈاکٹر عائرہ نے کمیشن کے جاری اہم منصوبوں کی تفصیل بیان کی: جن میں پاکستان کا پہلا جینڈر پورٹل ایک قومی ڈیٹا بیس جو صنفی تشدد، تعلیم، صحت، ملازمت اور دیگر شعبوں میں خواتین کی اصل صورتحال ظاہر کرتا ہے۔
GBV رپورٹنگ ایپ ایک جدید ڈیجیٹل ٹول جس کے ذریعے خواتین یا اُن کے کمیونٹی ان ایبلرز فوری طور پر تشدد کی رپورٹ درج کر سکتے ہیں۔
میدانی دورے جیلوں، عدالتوں، دارالامان اور کرائسز سینٹرز میں خواتین کے حالات کا جائزہ لے کر رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔
پالیسی ایڈووکیسی کے تحت خواتین دوست قوانین کو مضبوط بنانا اور ان کے بہتر عملی نفاذ کے لیے حکومتی اداروں پر دباؤ بڑھانا۔
پاکستان میں اصل مسئلہ: کمزور عملدرآمد
ڈاکٹر عائرہ نے کہا کہ اگر قانون پر صحیح عمل ہو، پولیس تربیت یافتہ ہو، اور عدالتیں بروقت فیصلے کریں تو پاکستان میں خواتین کے لیے انصاف کا سفر آسان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اداروں کے درمیان مضبوط رابطے اور بہتر کوآرڈی نیشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
انٹرویو کے اہم نکات — عوام کے لیے رہنمائی
اس گفتگو سے یہ باتیں واضح ہوئیں:
خواتین شواہد اس لیے محفوظ نہیں کرتیں کہ معاشرہ انہیں خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے
ڈیجیٹل ٹولز خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
NCSW زمینی سطح پر کئی اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے
قوانین کے باوجود عملدرآمد کمزور ہے
پاکستان کو خواتین کے لیے محفوظ ملک بنانے کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے
ڈاکٹر عائرہ نے گفتگو کے آخر میں کہا:
“خواتین کی حفاظت صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں—یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘
انٹرویو اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ انصاف کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر مضبوط ادارے، آگاہی اور معاشرتی حمایت ہی پاکستان میں تبدیلی کا آغاز بن سکتے ہیں۔