WhatsApp Image 2026 06 17 at 20.04.49

سپریم کورٹ: دو خواتین کو جائیداد کے تنازعہ پر برسوں‌بعد حتمی انصاف حاصل

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنےوالی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ جاری کردیا، پاکستان میں الاٹ کی گئی زمین پر بیوہ کا حق تسلیم اور مخالف فریقین کا دعوٰی مسترد کر دیا گیا۔
Justice
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مدوخیل نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں ٹرائل کورٹ کاسال 2000کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا گیا۔

عدالت عظمٰی نے قرار دیا کہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے پہلے فوت ہوئے، بیوہ نے پاکستان میں مستقل آباد کاری کیلئےذاتی حیثیت سے زمین کی الاٹمنٹ کیلئےدرخواست دی۔جس زمین پر فریقین نےحصہ دار ہونے دعویٰ کیاوہ کبھی عبدالکریم کی ملکیت رہی ہی نہیں۔

سپریم کورٹ کے مطابق جائیداد ایک بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو الاٹ کی گئی تھی، مخالف فریقین نے بھارت سے ہجرت کر کے آنےکا دعویٰ نہیں کیا، مرحوم عبدالکریم کے رشتہ دار کا جائیداد کا دعویٰ بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہو سکتا ہے، ٹرائل کورٹ کے 2000 کے حکم اور ہائیکورٹ کے 2014کے فیصلے کو کالعدم قرا ر دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب خاتون کو وراثتی جائیداد کے کیس میں نصف صدی بعد حتمی ریلیف مل گیا۔
court order
سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست مسترد کردی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی زیتون بی بی کے والد 1974 میں انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد انہیں وراثتی جائیداد سے محروم کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 2022 میں زیتون بی بی کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے خلاف نظرثانی درخواست بھی 2024 میں خارج کردی گئی تھی۔

مخالف فریق نے فیصلے پر عملدرآمد کے بجائے نظرثانی خارج کرنے کا حکم واپس لینے کی درخواست کی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے، فریقین اور وکلا اکثر عدالت کی مہربانی کو ضابطے کی رسمی کارروائی سمجھتے ہیں، تاہم عدالتی احکامات کی سنجیدگی اور تقدس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے مطابق نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا 4 مارچ 2024 کا حکم واپس لینے کے برابر ہوگا، اس لیے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں