958150 52494913

ناکافی شواہد پر ملزم کو بری کرنے کا اختیار ابتدائی عدالت کو ہی حاصل ہے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور: ہائیکورٹ نے ناکافی شواہد پر مبنی مقدمات کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ابتدائی مرحلے پر ہی نمٹانے کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اہم عدالتی نظیر قائم کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں ریکارڈ پر موجود شواہد ناکافی ہوں تو اسے ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ڈسچارج اور ملزم کو بری کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔
Untitled 2026 01 20T183506.600
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم محمد ارشد کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، ملزم کے خلاف خانیوال پولیس نے لڑائی جھگڑے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

تحریری فیصلےپر مبنی عدالتی نظیر میں قرار دیا گیا ہے کہ کمزور شواہد والے مقدمات نہ صرف عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ ریاستی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتے ہیں، عدالت پراسیکیوشن کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو ڈسچارج کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

اُنہوں نے فیصلے میں لکھا کہ پراسیکیوشن کا کردار محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک مؤثر فلٹرنگ سسٹم ہونا چاہیے تاکہ کمزور اور بے بنیاد مقدمات ابتدائی مرحلے پر ہی روک دیے جائیں،فیصلے میں اِس بات پر زور دیا کہ پولیس رپورٹ کی مؤثر جانچ اور شواہد کی چھان بین پراسیکیوشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

عدالتی فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ بے بنیاد مقدمات کیلئے پراسیکیوشن کو اپنی سکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ صرف مضبوط مقدمات ہی ٹرائل تک پہنچ سکیں، اگر کسی کیس میں بعد ازاں مزید شواہد سامنے آئیں تو اسے دوبارہ کھولنا قانونی طور پر ممکن ہے، تاہم اس کا انحصار نئے مواد اور قانونی تقاضوں پر ہوگا۔

دوسری جانب اِس کیس کے دوران ایک شہری کو کریکٹر سرٹیفکیٹ کے معاملے میں بھی ریلیف فراہم کیا گیا،جسے عدالت نے اہم قانونی پہلو قرار دیا۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ تمام فوجداری معاملات میں اس اصول کو مدنظر رکھا جائے کہ کمزور شواہد والے مقدمات کو ٹرائل تک نہ پہنچایا جائے، عدالت نے مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئےلکھا کہ درخواست گزار کو قانون کے مطابق نئی درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں