WhatsApp Image 2026 09 02 at 22.44.09

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن میں حکومتی صوابدید پر کمشنرز کی برطرفی کا قانون کالعدم قرار

لاہور:ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کمشنر کو حکومت کی مرضی سے عہدے سے ہٹانے سے متعلق قانون کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔
Untitled 2025 12 23T075253.215
جسٹس راحیل کامران شیخ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سابق کمشنر عظیم الدین زاہد کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ خودمختار ریگولیٹری ادارے کے کمشنر کی مقررہ مدت حکومت کی غیر محدود صوابدید پر ختم نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کوئی عام محکمانہ دفتر نہیں بلکہ ایک خودمختار ریگولیٹری ادارہ ہے، جسے صحت کی سہولیات کے معیار کی نگرانی، لائسنس جاری یا منسوخ کرنے، معائنہ، تحقیقات اور جرمانوں سمیت وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جب ایک ریگولیٹری ادارے کو سرکاری اداروں کو بھی ریگولیٹ کرنا ہو تو حکومت کو کمشنرز کو کسی بھی وقت اور بغیر قابلِ تعین وجہ کے ہٹانے کا اختیار دینا ادارے کی آزادی کو متاثر کرسکتا ہے۔ کمشنر کی مقررہ مدت کا تحفظ ذاتی استحقاق نہیں بلکہ ریگولیٹری ادارے کی خودمختاری کے لیے اہم قانونی حفاظتی انتظام ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کمشنر کی مقررہ تین سالہ مدت قبل از وقت ختم کرنے کے لیے بدعنوانی، نااہلی، مفادات کے ٹکراؤ، فرائض کی انجام دہی میں ناکامی یا کسی دوسرے قابلِ تعین قانونی جواز کا ہونا ضروری ہوسکتا ہے، تاہم متنازع ترمیم میں ایسا کوئی معیار یا طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
Untitled 2025 12 29T005215.330
فیصلے کے مطابق حکومت کو برطرفی کی وجہ بتانے، متعلقہ کمشنر کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے یا فیصلے کی وجوہات ریکارڈ کرنے کا پابند بھی نہیں کیا گیا تھا، جو آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی سیکشن 6 کی ذیلی دفعہ 1 اے کو آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے سے متصادم قرار دیتے ہوئے آرٹیکل 8 کے تحت اس حد تک کالعدم اور بے اثر قرار دے دیا۔

عدالت نے سابق کمشنر عظیم الدین زاہد کی 18 جولائی 2024 کی برطرفی کے نوٹیفکیشن کو بھی برقرار رکھنے سے انکار کردیا، تاہم قرار دیا کہ ان کی اصل تین سالہ مدت دورانِ مقدمہ ختم ہوچکی ہے، اس لیے اب بحالی کا مؤثر حکم جاری نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیکشن 6(1 اے) کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلہ قانون کے مطابق نافذ العمل رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں