صفورا امجد
ذرا سوچیں کہ کوئی شخص روزگار ، غربت یا قرض کی وجہ سے اتنا مجبور ہو جائے کہ اپنے جسم کا کوئی حصہ فروخت کرنے پر آمادہ ہو جائے یا کسی انسان کو دھوکے یا فراڈ سے اس کے اعضاء سے محروم کر دیا جائے۔ یہ کوئی خیالی یا فلمی کہانی نہیں ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پیش آنے والی تلخ حقیقت ہے جہاں انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت ہزاروں زندگیاں متاثر کر رہی ہے۔
بہت سے ممالک میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت ایک سنگین اور خطرناک جرم بن چکی ہے۔ غربت، بے روزگاری اور انسانی اسمگلنگ جیسے عوامل اس جرم کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ غیر قانونی اعضاء کی تجارت کئی صورتوں میں ہو رہی ہے۔ بعض اوقات غریب افراد کو مالی مشکلات کے باعث اپنے اعضاء فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور غیر قانونی بروکرز اس سنگین جرم کی اصل جڑ ہیں۔انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت کا طریقہ کار ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کا آغاز ایسے افراد کی تلاش سے شروع ہوتا ہے جو مالی مشکلات کا شکار ہوں۔بروکرز رقم کا لالچ دے کر اعضاء کی فروخت کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان افراد سے رابطہ کیا جاتا ہےجنہیں اعضاء کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سنگین اور غیر قانونی کام میں اکثر طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت صرف قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ انسانیت اور بنیادی انسانی حقوق پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق اعضاء کی پیوند کاری کی ضرورت بتدریج بڑھ رہی ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے انسانی اعضاء کی خرید و فروخت روکنے کے لیے کئی قوانین بنائے ہیں۔ پاکستان میں
Transplantation of Human Organs and Tissues Act
کے تحت اعضاء کی تجارتی خرید و فروخت جرم ہے جبکہ صرف قانونی شرائط کے تحت اعضا کی پیوند کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف قوانین نہیں ہیں بلکہ عوامی شعور بھی ضروری ہے۔عوام میں بھی یہ شعور بیدار کیا جائے کہ کسی بھی مشکوک طبی پیشکش یا مالی لالچ کا شکار نہ ہوں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے، طبی ادارے، عوام مل کر اس خطر ناک جرم کے خلاف موثر جدوجہد کریں۔ اگر آج بھی ہم اس خاموش جرم کو صرف خبروں تک محدود سمجھتے رہے تو کل اس کی قیمت مزید بے گناہ زندگیاں ادا کریں گی۔


