WhatsApp Image 2026 08 19 at 10.08.13

بلدیاتی انتخابات؛ ملتان میں‌یونین کونسل حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن روکنے کا حکم

لاہور:پنجاب میں بلدیاتی الیکشن بارے لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق ملتان کی دویونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔
968717 36950686
جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ حلقہ بندی ووٹ کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے مطابق ہونی چاہیےحلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا مقصد ووٹ کے حق کو تحفظ دینا ہے۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے محمد ندیم کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار نے 29 جولائی 2026 کو ریجنل الیکشن کمشنر / ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی ملتان کی جانب سے جاری حکم کو چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کونسلز نمبر 3 اور 4 کی ابتدائی حلقہ بندی 25 مئی 2026 کو شائع ہوئی جبکہ قانون کے تحت اعتراضات دائر کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت تھی جو 9 جون کو ختم ہوگئی۔

وکیل کے مطابق فریق نمبر 7 نے 17 جون کو اعتراضات دائر کیے، جنہیں ڈیلمیٹٰشن اتھارٹی نے منظوتر کرکےحلقہ بندی تبدیل کی جوغیر قانونی ہے لہٰذا عدالت فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، جسٹس جواد حسن نے فیصلے میں لکھا کہ حلقہ بندی ووٹ کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے مطابق ہونی چاہئے۔

فیصلے کے مطابق حلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا مقصد ووٹ کے حق کو تحفظ دینا ہے، ووٹ کی قدر میں عدم مساوات یا سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں حلقہ بندی سے گریز کرنا ہے۔
gavel
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حلقہ بندی میں آبادی، جغرافیائی یکجائی، انتظامی حدود، ذرائع مواصلات، عوامی سہولت اور علاقے کے باہمی مفادات جیسے عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

فیصلے کے مطابق حلقہ بندی ایک غیر جانب دارانہ عمل ہونا چاہیے اور کسی سیاسی جماعت یا فریق کے مفاد میں حلقہ بندی کرنا انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

عدالت نے ملتان کی یونین کونسلز نمبر 3 اور 4، حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔ اور 25 اگست کو الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔

اپنا تبصرہ لکھیں