13 11

کیسے کیسے جج لاہور سے لائے، ایف آئی آر اور کراس ورشن کا ٹرائل الگ ہونے پر عدالت برہم

اسلام آباد:ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
426393 760648 updates
اسلام آباد ہائیکورٹ میں قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کی اپیل پر دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا یہ کون سے جج صاحب تھے جنہوں نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ سنا دیا۔

وکیل نے بتایا کہ جج افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ کیا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا بار سےکوئی جاکرچیف جسٹس کونہیں بتاتاکہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کردیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔

ان کا کہنا تھا وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کردیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہو گا، ممبر انسپکشن ٹیم کوکہتا ہوں،ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں،غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم نے سیکھنا ہے، ہائیکورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سپروائز کرنے کا اختیار ہے، ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے کہ نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں