Untitled 2026 02 28T232135.688

مزار کے احاطہ میں 20 افراد کے قتلِ عام پر چار مجرموں کی 20،20 بار سزائے موت برقرار

لاہور: ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی کے تنازع پر 20 افراد کو قتل کرنے کے مقدمہ میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے چاروں مجرموں کی اپیلیں مسترد کرکے 20 بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھ دیا۔
Untitled 2026 01 20T183506.600
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، حکومت کی جانب سے پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے دلائل پیش کیے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرم کی ہولناکی انصاف کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی، عدالت نے صرف جذبات میں نہیں بلکہ صرف شواہد پر فیصلہ کیا، دربار پر پیش آنے والا واقعہ انتہائی ہولناک اور غیر معمولی نوعیت کا تھا، جبکہ ایف آئی آر کے فوری اندراج نے جھوٹے مقدمے کے امکان کو ختم کر دیا، اور پولیس کی بروقت کارروائی استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط بناتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ زخمی گواہ کا بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور بلاوجہ رد نہیں کیا جا سکتا، فیصلے کے مطابق مجرمان کے خلاف جھوٹے مقدمے کا کوئی محرک ثابت نہیں کیا جا سکا، خون آلود ہتھیاروں سمیت موقع پر گرفتاری نے استغاثہ کا مقدمہ مزید مضبوط کیا، عینی شاہد گواہوں کے بیانات طبی شواہد سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو جرم سے جوڑ دیا، فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولین کے جسموں میں ایتھانول موجود تھانشہ آور مشروبات پلا کر مقتولین کو بے ہوش کیا گیا، جس کی تصدیق فرانزک شواہد نے کی، فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قتلِ عام کی بنیادی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھا، جس نے خوفناک قتلِ عام کی شکل اختیار کی۔

مجرموں کا محض انکار مضبوط عینی، طبی اور فرانزک شواہد کو رد نہیں کر سکتے، مذہبی مقام پر اجتماعی قتل سے عوام میں خوف، دہشت اور عدم تحفظ پھیلا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق اس مقدمے میں مکمل طور پر درست تھا، مجرموں نے بیس بے گناہ افراد کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کیا، مقتولین کو برہنہ کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں کسی قسم کی رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگیا، اجتماعی قتل جیسے سفاک جرم میں سخت ترین سزا ہی انصاف کے تقاضے پورے کر سکتی ہے، اس لئے عدالت چاروں مجرمان کی سزائے موت برقرار رکھتی ہے.

یاد رہے کہ مجرموں کے خلاف سرگودھا کے تھانہ صدر میں 2 اپریل 2017ء کو مقدمہ درج کیا گیا، انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 3 دسمبر 2019ء کو چاروں مجرموں بیس مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں