WhatsApp Image 2026 09 06 at 10.16.38

شعبہ زراعت سے 67 فیصد خواتین منسلک، صرف 2 فیصد زمین کی مالک

اسلام آباد:پاکستان میں شعبہ زراعت سے 67 فیصد خواتین ملازم وابستہ ہونے کے باوجود صرف 2 فیصد خواتین زرعی زمین کی مالک ہیں.
Wmn 7
پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے (SDPI) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں زراعت کے شعبے میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہونے کے باوجود زمین کی ملکیت کے معاملے میں وہ شدید محرومی کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں صرف 2 فیصد خواتین کے پاس اکیلے یا مشترکہ طور پر زمین کی ملکیت ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ اعدادوشمار پاکستان میں خواتین کی اقتصادی خودمختاری اور زراعتی نظام میں ان کے حقوق پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

رپورٹ کے اہم ترین حقائق اور اعدادوشمار کے مطابق زراعت میں خواتین کا بڑا حصہ ہے، پاکستان میں روزگار سے وابستہ 67 فیصد خواتین زرعی شعبے میں کام کرتی ہیں، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

ملک میں 15 سے 49 سال کی عمر کی شادی شدہ خواتین میں سے 97.2 فیصد خواتین کو وراثت میں کوئی زمین یا گھر نہیں ملا۔صوبہ سندھ میں زمین کی ملکیت کے لحاظ سے خواتین کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں 99.1 فیصد خواتین کسی بھی قسم کی زمین کی مالک نہیں ہیں۔

جہاں 57 فیصد مردوں کے پاس بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، وہیں صرف 14 فیصد خواتین کو رسمی مالیاتی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح موبائل والٹس کا استعمال بھی مردوں (48 فیصد) کے مقابلے خواتین میں صرف 11 فیصد ہے۔
Wmn Climt Prgnant
ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2022ءکے سیلاب جیسے ماحولیاتی بحرانوں کا سب سے زیادہ اثر دیہی خواتین پر پڑتا ہے، کیونکہ وہ براہ راست کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ زمین کی رسمی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے ان خواتین کو حکومتی امداد، زرعی قرضوں اور دیگر مالیاتی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں