اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال 48 ہزار سے زائد اموات ہیپاٹائٹس کے باعث ہوتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر 11 منٹ بعد ایک شخص ہیپاٹائٹس کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتا ہے جبکہ ملک دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 91 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 38 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ ہر 10 مریضوں میں سے صرف 3 کو علاج کی سہولت میسر ہے جبکہ لاکھوں افراد علاج سے محروم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غیر محفوظ انجیکشنز اور خون کی غیر محفوظ منتقلی ہیپاٹائٹس پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ 2024 میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
ڈبلیو ایچ او نے 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم قومی پروگرام کے تحت پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اس ضمن میںوفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےکہا ہے کہ ملک کو 2023 تک ہیپاٹائٹس سی فری بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے تقریب سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت 68 ہزار روپے مالیت کی دوائیں اور 60 ہزار روپے تک کے ٹیسٹ مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا اب تک اکیس ہزار شہریوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے جن میں سے 1700 افراد میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوئی ۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں ہیپاٹائٹس کینسر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اسکریننگ پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شروع کی گئی ہے، جسے بعد ازاں تمام صوبوں تک توسیع دی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت ایک ایسا قانون متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت جس بھی طبی عمل یا آپریشن میں جلد کو کاٹا جائے گا، وہاں ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ لازمی ہوں گے۔ یہ قانون بارہ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر لاگو ہوگا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہیپاٹائٹس میں ہم پہلےاورپولیو میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔


