نمائندگان:وفاقی دارالحکومت کے علاقے لوہی بھیر میں سکیورٹی گارڈ کی لڑکی سے نازیبا حرکات کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔
سکیورٹی گارڈ نوجوان لڑکی کو قریبی پارک سے ڈرا کر سیکورٹی کیبن میں لایا اور اُس سے نازیبا حرکات کرنے لگا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد لڑکی کیساتھ نازیبا حرکت پر تھانہ لوہی بھیر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، سیکورٹی گارڈ سوسائٹی کے داخلی دروازے پر چیکنگ پر تعینات ہے، پولیس نے ملزم مسعود کر گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کر دی۔
دوسری جانب کراچی کے علاقہ ناظم آباد نمبر تین میں دو روز قبل خاتون کو ہجوم کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے وائرل واقعے میں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے صلح سے متعلق باقاعدہ طور پر پولیس کو آگاہ کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد درج کیے گئے مقدمے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو روز قبل ناظم آباد نمبر تین کے قریب ہجوم نے چند خواتین کو گھیر کر ہراساں کیا تھا، جس کے دوران ایک خاتون اپنی جان بچانے کے لیے کئی گھنٹوں تک ایک ہوٹل میں محصور رہی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور خواتین کو بحفاظت ریسکیو کیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ خواتین علاقے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھیں، تاہم تحقیقات میں یہ الزام بے بنیاد ثابت ہوا۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ خواتین نے علاقے میں ڈانس اور سنگنگ کی تربیت کا ایک چھوٹا ادارہ قائم کر رکھا تھا، جس پر بعض علاقہ مکینوں کو اعتراض تھا۔ اسی معاملے کو جواز بنا کر ہجوم نے وہاں سے نکلنے والی خواتین کو گھیر کر ہراساں کیا۔
واقعے کے بعد متاثرہ خواتین کی مدعیت میں ناظم آباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اب دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔

