WhatsApp Image 2026 05 31 at 21.40.54

انسداد تمباکو نوشی؛پاکستان میں‌3 کروڑ سے زائد افراد مبتلا، غریب گھرانوں کی شرح زیادہ

نمائندگان:آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) اور ناری فاونڈیشن سکھر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کےلیے واضح مدت مقرر کی جائے۔
WhatsApp Image 2026 05 31 at 21.47.46
اے آر آئی کے سربراہ ارشد علی سید,ناری فاونڈیشن سکھر کے سربراہ افشاں اصغر اور انور مہر نے انسداد تمباکونوشی کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے دس برسوں کے دوران پاکستان سے تمباکونوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ "رواں برس انسداد تمباکونوشی کے عالمی دن کا موضوع نکوٹین اور تمباکو کی کشش اور لت کا مقابلہ ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اے آر آئی اور اس کے پارٹنر پاکستان میں ٹوبیکو کنٹرول کے حوالے سے تمام سرکاری اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ "ہم نوجوانوں اور غیر تمباکونوش افراد کو ہرقسم کی تمباکو مصنوعات سمیت کم نقصان دہ متبادل مصنوعات کے استعمال سے دور رکھنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی اب بھی تمباکو کے استعمال کی سب سے بڑی شکل ہے،اندازاً 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد تمباکونوشوں میں سے 1 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔WhatsApp Image 2026 05 31 at 21.48.22
پاکستان نے 2005 میں عالمی ادارہ صحت کے تحت تمباکونوشی کے خاتمے کے طریقہ کار کی توثیق کی جسے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کہتے ہیں۔ آج تقریباً دو دہائیوں کے باوجود بھی تمباکو کے استعمال کو قابو میں لانا ملک کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ آج پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف شکلوں میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ تمباکو کا استعمال 45.5 فیصد گھرانوں میں ہوتا ہے، اور یہ شرح غریب گھرانوں (48.8 فیصد) میں امیر گھرانوں (37.9 فیصد) کی نسبت زیادہ ہے۔ تمباکو کا استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد سگریٹ نوش ہیں۔ پاکستان میں ترک تمباکو نوشی کی مؤثر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث سگریٹ نوش اپنے طور پر اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 3 فیصد سے بھی کم سگریٹ نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ملتان میں‌چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف جینڈر سٹڈیز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر مرید حسین ملک نے کہا ہے کہ دنیا میں 80 لاکھ افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں تمباکو نوشی انسانی زندگی کیلئے زہر قاتل ہے معاشرے میں استعمال ہونے والا سب سے عام نشہ سگریٹ ہے بدقسمتی سے اسے نشہ ہی نہیں سمجھا جاتا مگر در حقیقت یہ ایک سنگین بیماری ہے جوانسان کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کے موقع پر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن ملتان کے زیراہتمام ملتان پوسٹ گریجویٹ کالج ملتان میں ڈی ایس جی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان اور فورٹین سٹریٹ پیزا ملتان کے تعاون سے منعقدہ سیمینار و شعوری آگاہی واک سے صدارتی خطاب میں کیا.
Untitled 2025 05 31T131607.865
مخدوم شعیب اکمل ہاشمی نے کہا کہ دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے،تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ریکارڈ ایک ارب دس کروڑ تک پہنچ گئی ہے یہی نہیں بلکہ سینکڑوں ارب روپے کا ٹیکس بھی چوری ہورہا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ رفیق، رشید عباس خان اور سید عاصم رضا شاہ نقوی نے کہا کہ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کا دورہ سر فہرست ہے اس کے باوجود لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو استعمال کرنے والے افراد کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہےے کہا کہ تمباکو نوشی میں اضافے کا بڑا سبب نوجوان طبقہ ہے جو شوقیہ طور پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور پھر وہ ہیروئن، چرس، تمباکو پان، گٹکا، شیشہ اور دوسرے بہت سے نشوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں نئی نسل میں اس حوالے سے شعوری آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے.

نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے اس طرح دنیا بھر میں ہر سال اسی لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں 31 مئی انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اس کے نقصانات کو اجاگر کرنا چاہئے۔

حافظ محمد وقاص، حسیب احمد، شاہ فہد، محمد سلیمان، افضال سلیم خان، و دیگر نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں تو کی جارہی ہیں مگر وہ سب نہ ہونے کے برابر ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے سخت قوانین بنائے تاکہ اس کے استعمال سے جو سالانہ لاکھوں افراد موت کے منہ میں جانے پر مجبور ہورہے ہیں ان کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں.

اپنا تبصرہ لکھیں