زین العابدین عابد
رمضان المبارک کی 23 تاریخ کو ملتان پولیس لائن میں ایک خوبصورت اور پروقار افطار پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جس کی میزبانی سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) نے کی۔ اس خصوصی نشست میں صحافی برادری کو مدعو کیا گیا، جہاں روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا۔
روزہ دار کا روزہ افطار کرانا ایک عظیم نیکی ہے، اس موقع پر پولیس اور صحافت جیسے دو اہم ادارے ایک ہی میز پر اکٹھے نظر آئے، جو معاشرے میں امن، استحکام اور مثبت رائے عامہ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس نشست میں ایس ایس پی آپریشن اور سیینئر صحافی کے مابین ایک مکالمہ ہوا کہ "زرد صحافت (ییلو جرنلزم) کو کیسے ختم کیا جائے ؟ "سینیئر صحافی نے فوراً برجستہ جواب دیا اور چند ایسے افراد کی طرف اشارہ کیا جو صحافیوں کے روپ میں افطار پارٹی میں موجود تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا”جناب! انہی لوگوں کی وجہ سے زرد صحافت قائم و دائم ہے۔”صحافی کا یہ جملہ نہ صرف حقیقت پر مبنی تھا بلکہ زرد صحافت کے چہرے کو بھی بے نقاب کر گیا.
زرد صحافت، جسے ییلو جرنلزم بھی کہا جاتا ہے، کیا ہے؟ جامع الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ، غیر ذمہ دارانہ، سنسنی خیز اور مبالغہ آرائی پر مبنی رپورٹنگ کو ییلو جرنلزم کہتے ہیں جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، جذبات بھڑکانا یا محض زیادہ قارئین، ناظرین یا اشتہارات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں خبریں حقیقی اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے بجائے سنسنی خیز سرخیوں، جھوٹی یا مبالغہ آمیز معلومات، اور غیر مصدقہ دعوؤں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
پاکستان میں صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو درست اور غیر جانبدار معلومات فراہم کرنا تھا، لیکن سیاست، حکومت، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور کمرشلزم کے دباؤ کے باعث یہ شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔ زرد صحافت اور لفافہ جرنلزم نے صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جہاں سنسنی خیزی، قیاس آرائیاں اور جانبداری نے سچائی اور تحقیق کی جگہ لے لی۔ بڑے میڈیا ہاؤسز اشتہارات، سیاسی اثر و رسوخ اور مخصوص بیانیوں کے تابع ہو چکے ہیں، جبکہ لفافہ جرنلزم نے غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبروں کو فروغ دیا، اور لفافہ جرنلزم نے صحافت کو ذمہ داری کے بجائے تجارت بنا دیا ہے۔
پاکستان میں زرد صحافت ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے، جہاں بعض صحافی مخصوص اداروں یا جماعتوں کے حق میں آدھے سچ کو فروغ دیتے ہیں۔ اب صحافت کی کامیابی معیار سے زیادہ مالی مفادات سے جڑی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف عوامی شعور کو متاثر کر رہا ہے بلکہ صحافت جیسے معزز پیشے کو بھی بدنام کر رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا ادارے غیر جانبدار اور تحقیق پر مبنی صحافت کو فروغ دیں، اور عوام بھی بغیر تصدیق کسی بھی خبر کو قبول کرنے کے بجائے مستند ذرائع پر بھروسا کریں۔
اس ڈیجیٹل دور میں زرد صحافت نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے تحاشا فروغ پایا ہے۔ روایتی اخبارات اور ٹی وی تک محدود سنسنی خیزی اب کلک بیٹ، جعلی خبروں اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مواد کی صورت میں مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ غیر مصدقہ اور جذباتی خبروں کا وائرل ہونا عوامی رائے کو گمراہ کرتا اور سچائی کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
سوشل میڈیا کے الگورتھمز مخصوص بیانیوں کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ ذمہ دار صحافت پر سے عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے فیکٹ چیکنگ، میڈیا لٹریسی، اور سخت ڈیجیٹل قوانین ناگزیر ہیں۔ اگر سنجیدہ صحافت کو فروغ نہ دیا گیا، تو زرد صحافت سچائی اور آزاد میڈیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
پولیس افسران جب غیر مستند اور ڈمی صحافیوں کو اپنے دفاتر تک رسائی اور غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں، تو وہ نہ صرف زرد صحافت (ییلو جرنلزم) کو فروغ دیتے ہیں بلکہ حقیقی اور معیاری صحافت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ زرد صحافت کا مقصد عوام کو باخبر کرنا نہیں، بلکہ انہیں گمراہ کرکے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی، جو محض ذاتی مفادات یا مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں، عوام کو گمراہ کرتے اور سنسنی خیز اور غیر مصدقہ خبریں پھیلاتے ہیں۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کو خصوصی رسائی دیتے ہیں یا ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، تو اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور حقیقی صحافیوں کی محنت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً، عوامی رائے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی بنیاد پر بنتی ہے، اور صحافت جیسے معزز پیشے کی ساکھ مجروح ہو جاتی ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کو چاہیے کہ وہ مستند اور تحقیق پر مبنی صحافت کو ترجیح دیں، تاکہ معاشرے میں سچائی اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
پولیس افسران کو چاہیے کہ وہ اپنے دفاتر کو غیر مستند اور نام نہاد صحافیوں کے لیے سیر گاہ بننے سے روکیں، کیونکہ ایسے عناصر نہ صرف ادارے کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ صحافت جیسے معزز پیشے کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ جب ہر شخص، خواہ اس کا صحافت سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو، بناء کسی تصدیق کے پولیس دفاتر میں آزادانہ آمد و رفت رکھے، تو اس سے غیر ضروری مداخلت اور زرد صحافت کو فروغ ملتا ہے۔ پولیس کا بنیادی مقصد قانون کی عمل داری اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہے، نہ کہ غیر سنجیدہ اور غیر مستند خبروں کی تشہیر کا ذریعہ بننا۔ ذمہ دار صحافیوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے، مگر محض شہرت، تعلقات اور ذاتی مفادات کے لیے خود ساختہ صحافیوں کو اہمیت دینا پیشہ ورانہ اصولوں کے منافی ہے۔ لہٰذا پولیس افسران کو چاہیے کہ وہ مستند اور تحقیق پر مبنی صحافت کو ترجیح دیں اور اپنے دفاتر کو صرف ان افراد کے لیے قابلِ رسائی بنائیں جو صحافت کے حقیقی اصولوں پر کاربند ہوں۔