422832 5202619 updates

بدعنوانی سے بریت کے باوجود خراب شہرت والے جج کی برطرفی ناگزیر ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد:جسٹس شاہد وحید کے تحریر کردہ فیصلے میں میلسی میں تعینات ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی برطرفی بحال کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ بدعنوانی کا الزام ثابت نہ ہونے کے باوجودخراب شہرت رکھنے والا جج منصب پر برقرا ر نہیں رہ سکتا۔

نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ عدلیہ کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے اور اگر کسی جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو قانون اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی ادارہ صرف حقیقی دیانت ہی نہیں بلکہ دیانت کے تاثر کا بھی تقاضا کرتا ہے، جبکہ جج کا معیار محض بے گناہی نہیں بلکہ ہر قسم کے شبے سے بالاتر ہونا ہے۔WhatsApp Image 2026 06 20 at 00.27.59

سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطرفی کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرنا قانون کی غلط تشریح تھی۔

عدالت کے مطابق خراب شہرت ثابت ہونے پر ریٹائرمنٹ نہیں بلکہ برطرفی ہی مناسب سزا ہے اور ایسے جج کو ریٹائرمنٹ فوائد دے کر رخصت کرنا یہ تاثر دیتا ہے کہ دیانتداری پر سمجھوتہ ممکن ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ جج کی دیانت یا تو مکمل ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی، عدالتی ادارے کی ساکھ کے تحفظ کے لیے خراب شہرت رکھنے والے جج کی برطرفی ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں