hunza glaciers burst

موسمیاتی تبدیلی کے خطرات … 71 لاکھ افراد زندگی کے تحفظ کے منتظر

وقار فانی مغل

زندگی قیمتی ہے انمول ہے اس لیے خطرے کی نشاندہی ہو جانے کے بعد خاموشی یا انتظار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ جب کسی علاقے، آبادی یا نظام کو ممکنہ خطرے کے بارے میں پہلے ہی آگاہی حاصل ہو جائے تو بروقت اقدامات، مؤثر منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی کے ذریعے نقصان کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ خطرے کو نظرانداز کرنا مسئلے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
973232 27843827
پیشگی تیاری صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، خاندان اور کمیونٹی کا مشترکہ فرض ہے۔ ہنگامی منصوبہ بندی، بروقت اطلاع رسانی، محفوظ مقامات کی نشاندہی اور ضروری وسائل کی دستیابی جیسے اقدامات کسی بڑے سانحے کو بڑے نقصان میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ہمیں حادثے کے بعد ردِعمل دینے کی بجائے خطرے سے پہلے تیاری کی سوچ اپنانا ہوگی کیونکہ بروقت فیصلہ اور پیشگی اقدامات ہی قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کی پہلی ضمانت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور گلیشیئر جھیلوں میں مسلسل اضافے نے شمالی علاقوں میں بسنے والی لاکھوں آبادیوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ملک میں 13 ہزار 32 گلیشیئرز اور 3 ہزار سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 جھیلوں کو خطرناک اور اچانک پھٹنے کے ممکنہ خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں یہ آشکار ہوا کہ ممکنہ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کی صورت میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً 71 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت ہوتا ہے جس میں گلیشیئرز اور گلیشیئر جھیلوں کی مسلسل نگرانی، قومی سطح پر جامع ڈیٹا بیس کی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی بروقت نشاندہی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سینیٹر شیری رحمان پاکستان کے تمام گلیشیئرز کی مکمل فہرست مرتب کرنے اور خطرناک گلیشیئر جھیلوں کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سیٹلائٹس اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا دائرہ وسیع کیا جائے جبکہ مصنوعی ذہانت سے بھی خطرات کی ابتدائی نشاندہی میں مدد لی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی شرح میں مبینہ طور پر 16 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے درست، جامع اور قابلِ اعتماد قومی ڈیٹا ضروری ہے۔
Untitled 2025 12 18T052322.534
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک اجلاس کو بتاتے ہیں کہ "GLOF ” روایتی سیلاب سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت میں پانی کے ساتھ بڑے پیمانے پر چٹانیں اور ملبہ بھی نیچے کی جانب آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض واقعات میں تباہی 15 سے 20 منٹ کے اندر شروع ہو سکتی ہے جس کے باعث زیریں علاقوں میں آباد آبادیوں کو ردعمل کے لیے انتہائی محدود وقت ملتا ہے۔مصدق ملک بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2 ہزار 750 GLOF پوائنٹس کی نشاندہی کی جا چکی ہے جبکہ انتہائی خطرناک علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے متبادل اراضی فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔وفاقی وزیر مصدق ملک کے مطابق بہتر پیشگی انتباہی نظام کے لیے ایک چینی کمپنی سے حقیقی وقت کا GLOF ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ ایک کمیٹی بھی آفات سے نمٹنے اور ہنگامی ردعمل کے ذمہ دار اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عطا الرحمٰن کاکڑ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کو بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں 174 ابتدائی انتباہی نظام نصب کیے جا چکے ہیں۔ تاہم بارش اور بادلوں کے باعث بعض سینسرز کا کام کرنا بند کردینا بھی نظام کی مؤثریت متاثر کرتا ہے۔ پاکستان محکمہ موسمیات سے حقیقی وقت کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عطاء الرحمٰن کاکڑ نے پی ایم ڈی ، سپارکو اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے درمیان مشترکہ فیلڈ ویلیڈیشن پلان کی تجویز بھی پیش کی۔عطاء الرحمن بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان حکومت کے پاس ابتدائی انتباہی نظام کی دیکھ بھال کے لیے الگ بجٹ موجود نہیں جبکہ مؤثر نظام کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 145 اہلکاروں کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک تصدیق کرتے ہیں کہ 2017 سے 2026 کے دوران 34 ابتدائی انتباہی نظام فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 284 نظام آئندہ چھ ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔وہ بتاتے ہیں کہ موسمیاتی اور دیگر خطرناک واقعات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک نئی اتھارٹی کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مربوط موسمیاتی ردعمل کے نظام اور جدید لیبارٹریوں کے لیے فنڈز کے حصول کی کوششیں بھی جاری ہیں جبکہ ڈیجیٹل لیبارٹریوں اور خصوصی تربیت کی ضرورت بھی اجاگر کی جا رہی ہے۔

چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نیپال میں حالیہ تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ پاکستان کو ایسے واقعات سے سنجیدہ سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی تیاری مزید بہتر بنانا ہوگی۔ وہ خبردار کرتی ہیں کہ GLOF انتہائی مختصر وقت میں زیریں علاقوں کی آبادیوں، سڑکوں اور اہم انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ ڈی جی گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دیتی ہیں کہ 29 ستمبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں جامع GLOF ریسپانس پلان پیش کیا جائے، جس میں فعال گلیشیئرز اور خطرناک جھیلوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں کی آبادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات بھی شامل ہوں۔
afghan migrants die
اجلاس میں چترال کے جنگلات کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے جنگلات میں کمی اور مبینہ غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے وہ علاقے جہاں ماضی میں گھنے جنگلات موجود تھے، وہاں سبزہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔بتایا گیا کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے بعد لکڑ دریائی راستوں کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے اور اس عمل کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف گرین پاکستان جیسے منصوبوں پر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف جنگلات کا رقبہ اور معیار متاثر ہو رہا ہے۔

کمیٹی چیئرپرسن نے خیبر پختونخوا کے جنگلات کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کے مؤثر تحفظ پر زور دیا اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں کے لیے بجٹ بڑھانے کی تجویز بھی دی۔ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ضروریات جون سے قبل طلب کی جانی چاہئیں تاکہ نئے مالی سال کے آغاز پر ہی منصوبوں پر کام شروع کیا جا سکے اور فنڈز کے اجرا میں تاخیر نہ ہو۔اسی اجلاس میں پلاسٹک آلودگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ عالمی سطح پر صرف 9 فیصد پلاسٹک ری سائیکل ہوتا ہے جو پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک آلودگی میں کمی کے لیے قانون سازی تو کی گئی ہے تاہم مؤثر عملدرآمد کے بغیر قوانین مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔انہوں نے اسلام آباد میں درسی کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر پابندی کو پلاسٹک کے فضلے میں کمی کے لیے ایک سادہ اور عملی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کا کچرا نالوں کی بندش اور شہری انفراسٹرکچر کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے۔
climate change 1
کمیٹی کو گرین یونیورسٹی پروگرام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جس کے تحت طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تبادلے اور ماحولیاتی معلومات و تجربات کے اشتراک کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستانی طلبہ ماحولیات اور گرین ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نئے سٹارٹ اپس شروع کرنے کے لیے پرجوش ہیں تاہم متعدد منصوبے ابتدائی چھ ماہ ہی میں ختم ہو جاتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کے اختراعی منصوبوں کو ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھانے کے لیے مضبوط معاون نظام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ طلبہ کے نئے آئیڈیاز پائیدار منصوبوں میں تبدیل ہو سکیں۔

اجلاس میں ہونے والی بحث سے یہ امر نمایاں ہوا کہ پاکستان کو محض ابتدائی انتباہی آلات کی تنصیب تک محدود رہنے کی بجائے مربوط موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کا نظام تشکیل دینا ہوگا، جس میں حقیقی وقت کا ڈیٹا، سیٹلائٹ اور ڈرون نگرانی، مصنوعی ذہانت، مقامی آبادی کی شرکت اور تیاری، محفوظ مقامات، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور طویل المدتی منصوبہ بندی شامل ہو، کیونکہ زندگی قیمتی ہے انمول ہے اس لیے خطرے کی نشاندہی ہو جانے کے بعد خاموشی یا انتظار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی 71 لاکھ زندگیوں کو لاحق خطرات کا تدارک ضروری ہے۔

WhatsApp Image 2026 09 13 at 08.07.29
وقار فانی مغل 25 برس سے زائد عرصہ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ بنیادی طور پر بالا کوٹ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن طویل عرصہ سے اسلام آباد میں مقیم ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں