لاہور: پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے وکلاء کی جانب سے سوشل میڈیا کے نامناسب استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ضوابط اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے وکلاء کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ اور ممبران محمد زاہد خان کچھی، کاشف منظور چوہدری، مجتبیٰ حسن تتلہ اور سید حسن عباس ہمدانی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر بعض وکلاء کی سرگرمیوں سے پیشہ وکالت کے وقار، عدلیہ کے تحفظات اور وکلاء برادری کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، جو پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 1976 اور پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2023 کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی وکیل کو وکالتی یونیفارم میں یا بطور وکیل شناخت ظاہر کرتے ہوئے ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ایکس، اسنیپ چیٹ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسا مواد شیئر کرنے کی اجازت نہیں جو پیشہ وکالت کے وقار کے منافی ہو۔
یونیفارم میں ماڈلنگ، ٹک ٹاک ویڈیوز، اسلحہ یا باڈی گارڈز کے ساتھ نمائش، دولت یا طاقت کی نمائش اور وکالتی خدمات کی تشہیر کو پیشہ ورانہ بددیانتی (Professional Misconduct) قرار دیا گیا ہے۔
ڈسپلنری کمیٹی نے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے قواعد کے منافی تمام مواد مقررہ مدت تک حذف کر دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانون اور بار کونسل رولز کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

