435782 1308984 updates

جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی؛ ایچ آر سی پی کا اصلاحات کا مطالبہ

لاہور: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری اور نظام سے متعلق اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
Untitled 2026 03 01T230830.100
ایچ آر سی پی نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران محض نئی جیلیں تعمیر کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نظامِ عدل کی شدید ناکامیوں کا مظہر ہے۔

ایچ آر سی پی کی طرف سے جاری کردہ پالیسی پیپر ‘جیل کی دیواروں سے آگے: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی تعداد میں کمی کے لیے اصلاحات’ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ 2024ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اصل گنجائش سے اوسطاً 152 فیصد زیادہ قیدی موجود تھے، جبکہ ہر چار میں سے تقریباً تین قیدی کے مقدمات زیرِ سماعت تھے۔

چیئرپرسن اسد اقبال بٹ کی جانب سے جاری پریس ریلز کی رپورٹ کے مطابق، اس حد سے زیادہ گنجائش کے قیدیوں کے حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں صفائی اور علاج معالجے کی ناقص سہولیات، متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ، ذہنی صحت کے مسائل، تشدد، اور قیدیوں کی اصلاح کے مواقع کا کم ہونا شامل ہے۔
Untitled 2026 03 03T234159.521
اگرچہ حکومت نے نئی جیلوں کی تعمیر کو ایک پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ایچ آر سی پی کا مؤقف ہے کہ جیلوں کی گنجائش بڑھانے سے اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ختم نہیں ہو سکتیں۔ ان وجوہات میں ضمانت کے غیر مؤثر قوانین، ٹرائل سے پہلے حراست پر حد سے زیادہ انحصار، طویل سماعتیں، پروبیشن اور پیرول کا محدود استعمال، اور معمولی جرائم میں ملوث ملزمان یا مجرمان کو قید میں رکھنا شامل ہے۔

ایچ آر سی پی قید کی بجائے آزادی، قیدیوں کی اصلاح اور متبادل سزاؤں پر مبنی بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ضمانت کے قوانین کو بے گناہی کے مفروضے کے آئینی اصول سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، اور پولیس و استغاثہ پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ حراست کیوں ضروری ہے۔

رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ جسمانی/عدالتی ریمانڈ کے اختیارات کا استعمال احتیاط سے کریں اور حراست کی وجوہات بیان کریں، جبکہ قانونی تاخیر کو ضمانت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا سختی سے اطلاق کیا جائے۔ حکومت کو آزادانہ پروسیکیوشن سروسز کو مضبوط بنانا ہوگا، مقدمات کے متبادل حل کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا، اور پروبیشن اور پیرول کو عام قیدیوں کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں