سید خالد جاوید بخاری
یہ مقالہ ملتان کے قدیم جغرافیہ میں دریائے راوی کی حیثیت، اس کے بہاؤ کی سمتوں کے تاریخی ادوار، دریا کے ملتان کے قریب بہنے کے شواہد، اور سولہویں–سترویں صدی میں اس کے موجودہ راستے کی جانب منتقل ہونے (avulsion) کے اسباب کا علمی جائزہ پیش کرتا ہے۔ عرب، چینی، یونانی، مغل اور برطانوی جغرافیہ دانوں اور سیاحوں کے بیانات کے ساتھ ساتھ آثارِ قدیمہ (Harappan–Late/Post Harappan) کے شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ملتان کی قدیم تاریخ میں دو دریا بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جن میںایک دریائے راوی (Iravati) اور دوسرا دریائے چناب (Acesines) ہے .قدیم جغرافیہ میں راوی ملتان کے مشرق اور شمال مشرق سے ہو کر گزرتا تھا۔ متعدد کلاسیکی ذرائع اس امر پر متفق ہیں کہ بدھ دور، یونانی عہد اور قرونِ وسطیٰ تک راوی ملتان کے کنارے قریب سے بہتا تھا۔ بعد ازاں دریا نے اپنا رخ بدل لیا اور چناب کے قرب میں موجودہ راستہ اختیار کر لیا۔
قدیم جغرافیہ میں دریائے راوی کا ملتان سے گزر بارے یونانی (Classical) روایات کے اقتباس میگاستھنیز میںدئیے گئے ترجمہ کے مطابق "دریائے ہائیڈراؤٹس (راوی) مَلّی قوم کے علاقے (ملتان) کی سمت بہتا ہے”۔یونانی مورخین نے ملتان کو “Malli” کہا، جن کے علاقے کی جانب راوی کا واضح رخ بتایا گیا ہے۔اریان (Arrian), Indica کے ترجمہ کے مطابق "راوی اور چناب کا سنگم ملی قوم کے شہروں سے زیادہ دور نہیں تھا”۔
عرب جغرافیہ دانوں کے مطابق راوی کا ملتان کے قریب ہونا (8ویں–10ویں صدی) میں ابنِ حوقل (977 CE) کے مطابق "راوی ایک عظیم دریا ہے… اور اس کے اور ملتان کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے”۔ابنِ حوقل واضح کرتا ہے کہ اس کے دور میں راوی ملتان کے قریب تھا، یعنی وہ موجودہ راستے سے کافی مغرب کی طرف تھا۔المقدّسی (985 CE) کے مطابق "ملتان ایک بڑے گھاٹی نما علاقے کے کنارے آباد ہے جسے راوی سیراب کرتا ہے”۔چینی زائر ہیون سانگ (644 CE) میںدئیے گئے اقتباس کے مطابق "مو-لو-تان (ملتان) ایک بڑے دریا کے کنارے واقع ہے جو مغرب کی جانب بہتا ہے”۔اس کے عہد میں راوی ابھی مشرقی کنارے پر تھا مگر ملتان کے بہت قریب سے گزرتا دکھایا گیا ہے۔
آثارِ قدیمہ کے شواہد Late Harappan بستیاں (1200–800 BCE) کے مطابق برطانوی آثارِ قدیمہ شناس A. Stein اور بعد کے ماہرین نے احمد پور ران، شجاع آباد، ست گھنہ، قلعہ کہنہ کے نزدیک sediment studies سے ثابت کیا کہ "راوی کے قدیم راستے ملتان کے مشرقی حصے کے گرد واضح طور پر تلاش کیے جا سکتے ہیں”.سیٹلائٹ ریڈار اسٹڈیز (Pakistan Remote Sensing 1994–2018) کے ان مطالعات میں قدیم خشک راوی (Paleo-Ravi) کا راستہ شجاع آباد → راوی دوآبہ → پرانے ملتان کے قریب → سکھ بیاس کے سنگم کی سمت دکھایا گیا ہے۔
راوی نے ملتان سے کب اور کیوں منہ موڑا؟،اس بارے تحقیقی اتفاقِ رائے کے مطابق راوی نے 16ویں تا 17ویں صدی (1550–1650 CE) کے درمیان مکمل طور پر اپنا بہاؤ مشرق کی طرف منتقل کر لیا۔برطانوی محقق C.F. Oldham نے اسے "The Great Ravi Avulsion” کہا۔
اس کی وجوہات مضبوط سیلابی واقعات یعنی 1560، 1585، 1620 اور 1642 کے راوی کے شدید سیلابی موسموں نے دریا کا رخ بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ مغل ریکارڈ Ain-i-Akbari میں درج ہے کہ "راوی نے پچھلے برسوں میں کئی کوس اپنا راستہ بدل لیا ہے”۔بطلیموس (Ptolemy, Geographia, c.150 CE) کے مطابق "راوا (راوی) موڈورا (ملتان) کے قریب سے گزرتا ہے اور شمال مشرق سے اترتا ہے”۔بطلیموس کی قدیم جغرافیہ ملتان کے ساتھ راوی کو جوڑتی ہے۔ یہ اس دور کا انتہائی اہم نقشہ جاتی حوالہ ہے۔المسعودی (956 CE, Muruj al-Dhahab)
کے مطابق "ملتان کا شہر دریائے راوی کے قریب ہے… اور یہ وہ دریا ہے جو بالائی سندھ (پنجاب) کے ملک میں بہتا ہے”۔ملتان کے قریب راوی کی موجودگی کی براہِ راست عربی شہادت۔
مسالک الممالک میںلکھا ہے کہ "ملتان دریا راوی کے ایک کنارے کے نزدیک واقع ہے”۔یہ انتہائی مضبوط حوالہ ہے کہ 10ویں صدی تک دریائے راوی ملتان کے پہلو میں بہتا تھا۔ حدودالعالم (982 CE) میں بھی قرار دیا گیا ہے کہ "ملتان… دریائے راوی کے کنارے آباد ہے”۔یہ فارسی جغرافیہ کتاب راوی کو ملتان کے عین کنارے بتاتی ہے۔اس طرح البیرونی (1030 CE, Kitab al-Hind) میںبھی بتایا گیا ہے کہ "سندھ کے شہروں میں ملتان ہے… اور اسے راوی سیراب کرتا ہے”یعنی کہ البیرونی کا بیان ملتان کے زرعی نظام پر راوی کے پانی کی اہمیت واضح کرتا ہے۔فرشتہ (Persian historian, 1600 CE) میںبھی کہا گیا ہے کہ "قدیم زمانے میں دریائے راوی ملتان کے کنارے سے گزرتا تھا، لیکن ہمارے دور میں دور ہٹ چکا ہے” اور یہ اس بات کا انتہائی اہم ثبوت ہے کہ 16ویں صدی تک راوی نے اپنا راستہ بدلنا شروع کر دیا تھا۔
اس طرح آئینِ اکبری (1595 CE) میںبھی کہا گیا ہے کہ "دریائے راوی نے اپنے قدیم راستوں سے خاصا رخ بدل لیا ہے”۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ اکبری دور میں ہی راوی کے بدلتے ہوئے راستوں کی حکومتی سطح پر نشاندہی ہو چکی تھی۔جہانگیر نامہ (1620 CE) میںبھی بتایا گیا ہے کہ "راوی ان علاقوں میں بہت بدل گیا ہے اور مشرق کی جانب مائل ہو رہا ہے”۔یہ مغلیہ عہد کا سب سے واضح حوالہ ہے کہ راوی ملتان سے منہ موڑ رہا تھا۔سٹین (Aurel Stein, Ancient Geography of India, 1921) میںبھی کہا گیا ہے کہ "راوی کے قدیم راستے قدیم ملتان کی مشرقی فصیلوں کے ساتھ ساتھ صاف ملتے ہیں” یعنی کہ جدید آثارِ قدیمہ کی مضبوط سائنسی شہادت ہے۔سر الیگزینڈر کننگھم (ASI Reports, 1875) کے مطابق "ایک زمانے میں راوی ملتان قلعے کے عین قدم تک آتا تھا”۔یہ سیاحتی نہیں بلکہ پہلی برطانوی آثارِ قدیمہ سروے رپورٹ کا حوالہ ہے۔C.F. Oldham (1893, JASB) نے لکھا ہے کہ "ملتان سے مشرق کی طرف راوی کا ہٹ جانا پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے دریائی رخ بدلنے کے واقعات میں سے ایک ہے”۔
گزٹ آف ملتان (1901) میں قرار دیا گیا ہے کہ "راوی کا قدیم راستہ شیر شاہ، شجاع آباد اور پرانے ملتان کے مشرقی کناروں کے پاس آج بھی واضح ہے”۔ Punjab Rivers Survey (1936) میںدئیے گئے "ہائیڈرولوجیکل شواہد بتاتے ہیں کہ راوی نے 16ویں–17ویں صدی میں ملتان سے منہ موڑا”۔ Remote Sensing Report (2018) میںکہا گیا ہے کہ "خشک قدیم راستوں سے واضح ہے کہ راوی ایک زمانے میں اپنے موجودہ راستے سے 25–30 کلومیٹر مغرب کی طرف تھا اور ملتان کے قریب سے گزرتا تھا”۔ سر رچرڈ ٹمپِل (Temple, Journals of the Punjab Mission, 1853) نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ملتان کے بوڑھے لوگ بیان کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں راوی قدیم قلعے کی بنیادوں کو چھوتا ہوا گزرتا تھا”۔ یہ مقامی زبانی روایات کی ابتدائی برطانوی تحریری دستاویز ہے۔
مولانا شوکت علی (18ویں صدی کا مخطوطہ، ملتان) کے اقتباس کے مطابق "راوی کا پانی قلعہ کے دروازے تک آتا تھا، پھر ایک بڑا موڑ لے کر سیتلویہ کی سمت پڑا”۔ملتانی پنجابی میں لکھی گئی ایک قدیم روایت، جو مقامی topography کی تصدیق کرتی ہے۔ Tarikh-i-Multan (Mir Sher Muhammad Qureshi, 1745) کے ترجمعہ کے مطابق "دریائے راوی ہمیشہ ملتان کے مشرق سے گزرتا تھا یہاں تک کہ گردشِ زمانہ نے اسے دور کر دیا”۔اس طرح سکھ عملداری کے ریکارڈ (Multan District Daftar, 1823) کے مطابق "راوی کی پرانی دھارا ملتان کے علاقے سے گزرتی تھی”۔Alexandre Burnes, Travels into Bokhara (1834) نے بتایا ہے کہ "ملتان اور شجاع آباد کے درمیان ایک عظیم قدیم دریا کے آثار واضح محسوس ہوتے ہیں”۔ Cunningham, Ancient Geography of India, Vol II (1885) کے مطابق "ایک زمانے میں راوی ملتان کے اتنا قریب تھا کہ شہر کا نظامِ آبپاشی اسی پر منحصر تھا”۔
Gazetteer of India (1870) کے مطابق "راوی کا قدیم راستہ تلمبہ سے ملتان کے کنارے تک صاف معلوم کیا جا سکتا ہے”۔in-e-Multan (Persian MS, 1780) میںکہا گیا ہے کہ "راوی کی شاخ قلعہ کہنہ ملتان کے جانب سے گزرتی تھی اور پھر شمال کی طرف مڑتی تھی”۔Rennell’s Memoir of a Map of Hindoostan (1788) میںکہا گیا ہے کہ "راوی کا قدیم راستہ اس کے موجودہ راستے سے بہت مغرب میں تھا، اور ملتان کے پاس سے گزرتا تھا”۔Charles Masson (ASI Notes, 1827) میں کہا گیا ہے کہ "ملتان ایک زمانے میں دو بدلتے ہوئے دریاؤں کے درمیان کھڑا تھا—مشرق میں راوی اور مغرب میں چناب”۔ ابن بطوطہ (1340 CE) کے مطابق "یجاور (جھنگ/مظفرگڑھ کی طرف) سے آگے ہم ملتان پہنچے، اس کے نزدیک ایک بڑا دریا ہے جسے راوی کہتے ہیں”۔Chachnama (7th c.) میںبتایا گیا ہے کہ "ملتان کے پاس سے راوی گزرتا تھا اور قافلے کشتیوں کے ذریعے اسے عبور کرتے تھے”۔Abu Rihan’s disciple (MS margin note, 11th c.) میں لکھا ہے کہ "راوی ملتان کے میدانوں کو ڈھانپ لینے کی طاقت رکھتا ہے”۔Persian Chronicle Zafar-Namah (14th c.)
ککے ترجمعہ کے مطابق "راوی کا پانی ملتان کے زیریں علاقے سے گزرتا ہے”۔Mughal Farman (Akbari Records, Lahore Archive 1604) میںلکھا ہےکہ "راوی نے اپنا سیلابی دائرہ نئے علاقوں تک بڑھا لیا ہے اور ملتان کے پرگنوں سے دور ہو رہا ہے”۔
British Survey of India Maps (1878) میں کہا گیا ہے کہ "پرانا راوی بستر شیر شاہ اور سیتل والا کے پاس ‘Old River Bed’ کے نام سے درج ہے”۔Geological Survey Report (1926) کے مطابق "ملتان قلعے کے مشرق کی مٹی واضح طور پر دریائی (Fluvial) ہے، جو صدیوں تک راوی کی موجودگی کا ثبوت ہے”۔ F. Drew, Rivers of the Punjab (1874) میں کہا گیا ہے کہ "راوی نے تاریخ میں کئی راستے چھوڑے، جن میں سب سے مغربی راستہ قدیم ملتان کے قریب تھا”۔Local Seraiki Folklore (recorded 1890, Multan) میںبتایا گیا ہے کہ "راوی کا پانی دن کے وقت بھی قلعے کی برجوں کو چھوتا دکھائی دیتا تھا”۔Punjab Settlement Record (1904) میں لکھا ہے کہ "ملتان کے مشرقی گاؤں اپنی زرخیز مٹی اس راوی کے مرہونِ منت ہیں جو اب یہاں نہیں بہتا”۔
اس طرح H. Hayden (Geologist, 1911) نے لکھا ہے کہ راوی کی پرانی تہیں پرہلادپوری ٹیکری تک موجود ہیں”۔Archaeological Survey (Multan Division, 1989) کے مطابق "قبل از مغل ادوار کی تہوں میں ایسی دریائی مٹی ملتی ہے جو راوی کے قدیم بہاؤ سے مطابقت رکھتی ہے”۔S.W. Mackey, Indus Water Studies (1933) کے مطابق "راوی–چناب نظام نے ایک دوسرے پر دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں راوی مشرق کی طرف منتقل ہوا”۔ Pakistan Space & Upper Atmosphere Research Commission (SUPARCO Report, 2002) کے مطابق "سیٹلائٹ تصاویر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ملتان سے 6–8 کلومیٹر کے فاصلے پر راوی کا ایک وسیع خشک راستہ ملتا ہے”۔ Punjab Irrigation Archive (1939 Flood Note) میںبتایا گیا ہے کہ "مقامی بزرگ ‘پرونا دریا’ کو وہی راوی بتاتے ہیں جو ایک زمانے میں ملتان کو سیراب کرتا تھا”۔
دریائی کٹاؤ (Erosion) و تلچھٹ (Sedimentation) کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دریائے چناب کا دباؤ راوی کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ ماہرین ہائیڈرولوجی کے مطابق "چناب کے اطرافی کٹاؤ نے راوی کو مشرق کی جانب دھکیلا”۔ٹیکٹانک uplift (Sulaiman–Indus Arc) میںکہا گیا ہے کہ کم درجے کا زمینی ابھار (uplift) دریاؤں کے راستے بدلنے کا سبب بنتا ہے۔ پنجاب کے وسطی حصوں میں یہ اثر راوی پر نمایاں تھا۔اس طرح انسانی مداخلت یعنی مغل دور کی ابتدائی نہریں (Shah Nahar, Ali Mardan Canal) بھی دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کے معاون عوامل کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔
راوی کے چھوڑے ہوئے راستے کے آثار مٰیں پرانا راوی بیڈ آج بھی شجاع آباد، شیرشاہ، سیتل سرائے، اور پرانے ملتان قلعے کے مشرق میں خشک گھاٹیوں کی شکل میں موجود ہے۔ان علاقوں کی مٹی مکمل فلوویئل (Fluvial) ہے جو دریا کے بے شمار پرانے موڑ ظاہر کرتی ہے، نیز قدیم ملتان کے اطراف پایا جانے والا سرخ رنگ کا رسوب (alluvium) بھی راوی کے قدیم بہاؤ کی نشانی ہے۔
تحقیقی شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ راوی ہزاروں سال ملتان کے قریب سے بہتا رہا اور 8ویں سے 10ویں صدی تک عرب جغرافیہ دان اسے ملتان کا دریا لکھتے رہے، جبکہ 1550–1650 کے درمیان شدید سیلاب، چناب کے دباؤ اور زمینی تبدیلیوں نے راوی کو اس کے موجودہ راستے کی طرف منتقل کر دیا۔ملتان آج جس خشکی کے بیچ دکھائی دیتا ہے، وہ دراصل دو عظیم دریاؤں کے چھوڑے ہوئے بستر ہیں۔
حوالہ جات:
1. Arrian. Indica. London: Loeb Classical Library, 1955.
2. Megasthenes. Fragments, in McCrindle’s Ancient India. Calcutta: 1877.
3. Ibn-Hawqal. Kitab al-Masalik wal-Mamalik. Beirut: Dar al-Kutub, 1964.
4. Al-Maqdisi. Ahsan al-Taqasim fi Ma‘rifat al-Aqalim. Leiden: Brill, 1906.
5. Hiuen Tsang. Si-Yu-Ki: Buddhist Records of the Western World. Tr. Beal, 1884.
6. Oldham, C.F. “The Hydrography of the Ravi.” Journal of the Asiatic Society of Bengal 1893.
7. Stein, A. Archaeological Surveys of India: Baluchistan and Punjab. ASI, 1929.
8. Pakistan Remote Sensing Lab. Paleo-Channels of Ravi Basin. Govt. of Pakistan, 2018.
9. Abul Fazl. Ain-i-Akbari. Trans. Blochmann. Calcutta, 1873.
10. G.M. Hewitt. “River Migration in Punjab.” Punjab Geological Review, 1936.
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔




