کاشف رضا
مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہی توقیر بخاری کے لئے کچھ لکھنے کی ہمت جمع کررہا تھا۔دل اور دماغ کو یکجا کرنے کی کوشش کررہا تھا۔نہیں معلوم تھا کہ 2026ء کا مئی بڑے ماموں سید محمد ذکی کو بھی ہم سے چھین لے گا۔مئی کو اگر میں بے رحم مئی کہوں تو غلط نہ ہوگا۔26 مئی 1985 کو دادا،22 مئی 2013ء کو ابو اور 28 مئی 2024ء کو ہم سب کا پیارا توقیر ہم سے بچھڑ گیا۔26 مئی 2024ء کو تو ہی اس سے آخری ملاقات ہوئی تھی جب سینیئر صحافی بھائیوں نوید انجم شاہ اور نشید انجم شاہ کی والدہ کے نماز جنازہ پر ہم اکھٹے تھے۔مئی کے آغاز پر ہی دل کچھ زیادہ ہی بے ترتیبی سے دھڑکنے لگتا ہے اور ہر وقت یہی دعا نکلتی ہے خدایا خیر۔مئی خیریت سے گذار دے دل میں ایک انجانا سا خوف ہر لمحے موجود رہتا ہے۔مگر جو کاتب تقدیر نے لکھ دیا وہ بھلا کہاں ٹلتا ہے۔
10 مئی(اتوار)2026ء کو عزیز دوست سید شکیل حیدر کاظمی کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی اسی رات 8 بجے انکی والدہ کا نماز جنازہ تھا۔ نماز جنازہ پڑھ کر گھر پہنچا تو امی نے پوچھا کہ دوست کی والدہ کو کیا ہوا تھا میں نے بتایا کہ اچانک طبیعت خراب ہوئی جو سنبھل نہ سکی بلڈ پریشر لو ہوگیا جو موت کا سبب بن گیا امی کہنے لگے کسی دن تیرے مامے نے دے نال وی ایہی کجھ ہونا اے(کسی دن تیرے ماموں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوگا)میں نے بھی جوابا کہا کہ لگدا تے ایویں ای اے امی جی(لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے امی جی)۔کیا پتہ تھا کہ ماموں کی جدائی میں بھی 12 سے 13 گھنٹے رہ گئے ہیں اور اگلے دن صبح ساڑھے دس بجے کے نزدیک ماموں کے اس دنیا سے جانے کی خبر مل جائے گی اور 10 مئی کی رات 8 بجے کا منظر دوبارہ دہرایا جائے گا اور 11 مئی کی رات 8 بجے ہم سب اپنے پیارے ماموں کا نماز جنازہ پڑھ رہے ہوں گے۔ماموں ذکی نے 83 سال عمر پائی مگر گذشتہ ڈیڑھ سال سے بزرگی اور بیماری نے انہیں بہت لاچار کردیا تھا اور بستر سے جالگے تھے۔ڈیڑھ ماہ سے کھانا پینا بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔انکی وفات کے بعد ذہنی حالت کچھ نارمل ہوئی تو مئی کے بچھڑوں کی یاد اور ستانے لگی۔
ابو کو 2026ء میں جدا ہوئے 13 سال مکمل ہوجائیں گے۔ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ ہارٹ اٹیک کے سبب رات ساڑھے تین بجے انہیں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ لے گئے تھے پھر وہ بے بسی کے تین گھنٹے جب دعائیں بے اثر ہوگئیں اور صبح ساڑھے چھ بجے وہ ہمیشہ کے لئے ہمیں چھوڑ گئے اپنی آنکھوں کے سامنے والدین کا دم نکلتے دیکھنے سے مشکل لمحہ شائد ہی زندگی میں کوئی آتا ہو۔
خیر توقیر کی دوسری برسی سے پہلے اسکے بارے کچھ لکھنا چاہتا تھا۔وہ ہنستا مسکراتا چہرہ ابھی بھی دوستوں کو نہیں بھولا آج بھی توقیر سب کی یادوں میں زندہ ہے۔اسکے قہقہے،چٹکلے والی گفتگو ،کھانے پینے میں بے احتیاطی،بدپرہیزی کیسے بھلائی جا سکتی ہے۔وقت گزر جاتا ہے مگر کچھ لوگ اپنی شخصیت،کردار اور محبتوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ایسے ہی بااخلاق اور خوش مزاج انسانوں میں میرا بہترین دوست توقیر بخاری بھی شامل تھا۔جس کی دوسری برسی 28 مئی 2026ء کو منائی جا رہی ہے۔ یہ دن نہ صرف اس کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے لیے غم اور یاد کا دن ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی اداسی کا باعث ہے جن کی زندگیوں کو توقیر بخاری نے اپنی خلوص بھری مسکراہٹ اور محبت سے متاثر کیا۔
وقت واقعی بہت تیزی سے گزرتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے توقیر بخاری کو ہم سے بچھڑے دو سال گذر چکے ہیں۔مگر آج بھی اس کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔دوستوں کی محفلوں،صحافتی حلقوں میں اور زندگی کے مختلف مواقع پر اکثر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اہم شخصیت اب بھی موجود ہونی چاہئے تھی۔سچ تو یہ ہے کہ اس جیسا مخلص،ہنس مکھ اور بے لوث دوست ملنا اب ناممکن ہے۔توقیر بخاری ایک بہترین صحافی تھا اور شعبہ تعلیم سے بھی گہرا تعلق رکھتا تھا۔صحافت میں اس نے خاص طور پر ہیلتھ اور ایجوکیشن بیٹ میں نمایاں کام کیا۔ صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان پر ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرنا،ایکسلوسو خبریں دینا اس کی صحافتی شناخت بن گیا تھا۔وہ نہایت محنت کے ساتھ ہیلتھ اور ایجوکیشن بیٹ میں کام کرتا رہا کہ آج بھی لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔وہ ہمیشہ کوشش کرتا تھا کہ لوگوں تک درست اور مفید معلومات پہنچائی جائیں۔
اس کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو اس کا ہنس مکھ ہونا اور خوش مزاجی تھا۔وہ جہاں بھی ہوتا،ماحول کو خوشگوار بنا دیتا۔دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا،سب کو ساتھ لے کر چلنا اور محفل کو زندہ رکھنا اس کی فطرت کا حصہ تھا۔دوستوں کے درمیان وہ اکثر دوستی کی وجہ بنتا تھا یعنی اگر کسی کے درمیان کوئی ناراضگی یا فاصلے پیدا ہو جاتے تو توقیر بخاری اپنی محبت اور خوش مزاجی سے انہیں قریب لے آتا تھا۔اسی لئے کہا جاتا تھا کہ جہاں توقیر بخاری موجود ہو وہاں محفل خود بخود آباد ہو جاتی ہے۔اس کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ سب کے دکھ درد میں کام آنے والا انسان تھا۔اگر کسی دوست یا ساتھی کو مشکل پیش آتی تو وہ سب سے پہلے اس کے ساتھ کھڑا نظر آتا۔اس کی یہی انسان دوستی اور مخلصانہ رویہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے بے پناہ محبت پیدا کرتا تھا۔جب اس کی دوسری برسی آئی ہے تو اس کی یادیں دل میں ایک عجیب سی اداسی کے ساتھ ساتھ ایک احساس بھی جگاتی ہیں کہ مجھے زندگی میں ایسا مخلص دوست نصیب ہوا۔اس کی باتیں،اس کی ہنسی اور اس کا خلوص آج بھی یاد آتا ہے تو دل بے اختیار اس کے لئے دعا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے دادا،ابو،ماموں،توقیر بخاری سمیت تمام مرحومین کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور درجات بلند فرمائے۔توقیر بخاری آج ہمارے درمیان موجود نہیں،مگر اس کی یادیں،اس کا خلوص اور اس کی مسکراہٹ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔توقیر بخاری جیسے لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی اپنی محبت،کردار اور یادوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اک لمحہ بچھڑنے کا ایسا بھی آیا
پھر عمر بھر ملنے کی صورت نہ بنی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جاکر تو جدائی میری قسمت کردی


