لاہور: چیف جسٹس اور ججز لاہور ہائیکورٹ نے ڈسپلنری اور دیگر شکایات پر انکوائری افسران کی تجاویز کا جائزہ لینے کےبعد 4 ججز کو مختلف سزائیںدینے جبکہ 18 ججز کو الزامات سے بری کرتے ہوئے انکوائری ختم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں.
اس سلسلے میںجاری نوٹیفکیشنز کے مطابق سول جج (سول ڈویژن) مظفر گڑھ اور موجودہ او ایس ڈی سول کورٹس بہاولپور محمد اکرام رانجھا کو جبری ریٹائرمنٹ جبکہ اطہر افضل بٹ سول جج (او ایس ڈی) راولپنڈی کو ملازمت سےبرطرف کرنے کا حکم دیا ہے، نیز سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ ظل ہما کی 3 سال کے لئے نچلے پے سکیل پر کمی کی سزا کے ساتھ مسلسل غیر حاضری پر ملازمت سے برطرفی کا حکم دیا ہے .
اس سے قبل مذکورہ جوڈیشل افسران پر انکوائری آفیسر کی جانب سے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا تجویز کی تھی، جس پر چیف جسٹس اور ججز لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حتمی شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے الزامات کا دفاع کرنے کی ہدایت کی تھی.تاہم لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے الزامات کی سماعت کے بعد انکوائری آفیسر کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے سزا کو حتمی قرار دیا ہے.
اس طرحجج سمال کلیمز اینڈ مائنر آفینسسز کورٹ لاہور محمدشہباز کی تنخواہ میںایک سال کی انکریمنٹ روکنے کی سزا کا حکم دیا ہے.
لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹاینڈ سیشن ججز محمد ساجد علی (ریٹائر)، عابد حسین (شیخوپورہ)، جاوید اقبال شیخ (ریٹائر)، محمد بلال بیگ (جج اینٹی کرپشن کورٹ ڈی جی خان )، عتیق الرحمان (ریٹائر)، منظر علی گل (جج اے ٹی سی ون لاہور) اور ناصر حسین (ڈی جی ایچ آر ڈسٹرکٹجوڈیشری لاہور)، اعجاز احمد بٹر(او ایس ڈی سیشن کورٹ لاہور)، رحمت علی (اے ڈی ایس جے پیر محل)، شوکت علی (اے ڈی ایس جے بورے والہ)، محمد ظفر اقبال سیال (اے ڈی ایس جے وزیر آباد) کے خلاف انکوائری ختم کرتے ہوئے الزامات خارج کردئیے ہیں.
اس طرحمزمل غنی سول جج چیچہ وطنی،شکیل احمد سول جج قائد آباد، سابق سول جج (ریٹائر) حافظ محمد اقبال کلیار، عرفان علی سول جج جھنگ، محمد عدیل انور سول جج لاہور، ملک عبدالقیوم سول جج کوٹ ادو، توصیف عدیل حسن سول جج ساہیوال کے خلاف بھی انکوائری ختم کرتے ہوئے عائد الزامات خارج کر دیئے ہیں.

