WhatsApp Image 2026 05 04 at 23.44.57

عدالتی لاک ڈاؤن،انصاف کی راہ میں رکاوٹ: ریاض گیلانی کا چیف جسٹس پاکستان کو خط

ملتان: ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدرسید ریاض الحسن گیلانی نےچیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک درخواست میں عدالتی لاک ڈاؤن کی آڑ میں ہفتہ میں صرف چار دن عدالتی کام کرنے کو انصاف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے اور عدالتی لاک ڈاؤن کا حکم مجریہ 10 مارچ 2026 واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے.
chief justice of pakistan 1
انہوں نے کہاکہ اس حکم کے بعد عملی طور پر عدلیہ ہفتہ میں صرف تین دن کام کرتی ہے اور اسطرح نہ صرف یہ کہ عوام حصول انصاف سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ عدالتوں میں پہلے سے زیر سماعت لاکھوں مقدمات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے.اگر تو اس کا مقصد ایندھن بچت پالیسی تھا تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس پالیسی کی وجہ سے ایندھن کا استعمال 25% بڑھ گیا ہے اور تمام سیاحتی مقامات پر جمعرات تا سوموار بے انتہا رش دیکھنے میں آتا ہے اس طرح اس پالیسی کے فوائد کی بجائے شدید نقصانات سامنے آئے ہیں۔

ریاض الحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ بدلے ہوئے عالمی حالات میں جب ہر طرف زندگی معمول کی جانب رواں دواں ہے اور ماسوائے پاکستان کے پوری دنیا میں بشمول ایران عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں عدالتی لاک ڈاؤن ہفتہ میں چار دن کام کرنے کا بظاہر کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا ہے۔WhatsApp Image 2026 03 12 at 04.27.37

ریاض گیلانی نے درخواست میں مزید کہا ہےکہ فاضل چیف جسٹس پاکستان کے احکامات مجریہ مورخہ 10.03.2026 کے تحت مئی کے مہینہ میں تقریباً 19 چھٹیاں بنتی ہیں اور یوں عدلیہ پورے مہینہ میں فقط 11 دن کام کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں کرکٹ کے ٹورنامنٹ کروانا سب سے ضروری ہو جن کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی لاک ڈاؤن یا کوئی پابندی نہ ہے.

انہوں نے استدعا کی کہ لوگوں کو فراہمی انصاف کی ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے اور موقع ہے کہ عدلیہ حکومت کی تقلید نہ کرے اور انصاف کے اداروں کو مکمل طور پر کام کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ہفتہ میں چار دن کام کرنے کے احکامات مجریہ مورخہ 10.03.2026 پر نظر ثانی فرماتے ہوئے ان کو واپس لے کر ملک میں معمول کے مطابق عدالتی امور سرانجام دینے کا حکم صادر فرمائے جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں