89642424 e853 43d0 bbb6 64bcf93e7b8c

اظہار رائے کی آزادی، قانون کی حکمرانی زیر دباؤ رہے: ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ

اسلام آباد:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ "پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال 2025” ایک ایسے سال کا احاطہ کرتی ہے جس میں شہری حقوق کا دائرہ کار شدید محدود ہوا، عدالتی غیر جانبداری متاثر ہوئی اور عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا۔

رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ 2025 میں اظہار رائے کی آزادی—خاص طور پر حکام سے سوال کرنے اور احتساب کا مطالبہ کرنے کے حق— کو بری طرح دبایا گیا، جس کے قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوئے ۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قانونی اور ادارتی طریقہ کار کا استعمال بڑھ گیا۔ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا) میں ترامیم کے ساتھ ساتھ غداری اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے ذریعے صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں اور وکلاء کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔ دھمکیوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات نے خوف اور خود پر عائد کی گئی، سنسرشپ کے ماحول کو جنم دیا، جس نے عوامی مکالمے کو محدود کیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال دیا۔
e5f7494b 7d95 4563 aa47 9aa36fae8cd5
وفاقی اور بلوچستان کی سطح پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ترامیم، جن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو کسی بھی شخص کو بغیر کسی الزام یا عدالتی نگرانی کے تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا گیا، نے آزادی، شفاف ٹرائل اور بلا جواز حراست سے تحفظ کے بنیادی حقوق کو مزید کمزور کر دیا۔

رپورٹ عدلیہ کی آزادی میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتی ہے جو خاص طور پر 27 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد دیکھنے میں آئی۔ اس ترمیم نے عدالتی تقرریوں کے نظام میں انتظامیہ کے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا ہے۔ 2025 کے دوران اہم عدالتی فیصلوں نے جمہوری گنجائش کو مزید محدود کر دیا۔ شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل، اور پاکستان تحریکِ انصاف کو 2024 میں حاصل مخصوص نشستوں سے محروم کر کے اسے سیاسی طور پر غیر مؤثر بنانے جیسے اقدامات نے عدالتی شفافیت اور "اختیارات کی تقسیم” کے بنیادی اصولوں پر شدید سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

سیکیورٹی کے مسائل نے حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کیا۔ عسکریت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار جاں بحق ہوئے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ خواتین، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد سمیت کمزور طبقات کو بغیر کسی مناسب تلافی کے تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ کان کن اور سینیٹیشن ورکرز خاص طور پر حادثات کا شکار رہے اور ان کے تحفظ کو بہتر بنانے کے حوالے سے بہت کم پیش رفت دیکھی گئی۔ اگرچہ موسمیاتی آفات، خاص طور پر گلگت بلتستان میں، متعدد ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سبب بنیں، لیکن حکومتی ردعمل طویل مدتی کے بجائے وقتی اور ہنگامی نوعیت کا رہا۔

رپورٹ میں چند مثبت اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ "نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ” کا نفاذ مذہبی اقلیتوں کے ادارتی تحفظ کے حوالے سے ایک دیرینہ اور اہم قدم ہے۔ اسلام آباد اور بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کے قوانین بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے خواتین کے حقِ وراثت اور نکاح سے جڑے مسائل میں اہم فیصلوں کے ذریعے ان کے حقوق کو مزید مستحکم کیا ہے۔ صوبائی سطح پر چند فلاحی اقدامات اور ادارتی اصلاحات نے بھی کچھ حد تک ریلیف فراہم کیا، لیکن یہ پیش رفت بہت سست روی کا شکار رہی۔

چیئرپرسن اسد اقبال بٹ، سابق چیئرپرسن حنا جیلانی، کو چیئر منیزے جہانگیر، وائس چیئر نسرین اظہر اور سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے رپورٹ کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور پریس کے سوالات کے جواب دیئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں