لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے زیر التواء مقدمات میں قیدیوں کی طویل عرصہ سے حراست کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تین سال سے زائد عرصے سے زیر حراست زیرِ سماعت ملزموں کے مقدمات2 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کر دی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری پنجاب نے صوبے کے 28 اضلاع کے سیشن ججز کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔
مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ تین سال سے زائد عرصے سے زیر حراست زیرِ سماعت ملزموں کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر نمٹایا جائے۔
عدالتی مراسلے کے مطابق ایسے تمام مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کرتے ہوئےدو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
پنجاب کے تمام سیشن ججز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تین سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ملزموں کے مقدمات نمٹائیں اور اس حوالے سے عملدرآمد رپورٹ بھی جمع کرائیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی اس ہدایت کا مقصد طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمات کے باعث قید ملزموں کو بروقت انصاف کی فراہمی اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کا خاتمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ جوڈیشری کو جاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تین سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ملزموں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور عدالتی کارروائی کی رفتار تیز کی جائے۔

