Honey trap

سائبر کرائم شکایات میں 43 ہزار کا اضافہ، 15 این سی سی آئی اے سے منسلک

اسلام آباد:پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ایک سال کے دوران 43 ہزار سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
NCCIA arrest
نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو 2026 میں اب تک ایک لاکھ 48 ہزار 204 شکایات موصول ہوچکی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 ہزار 714 زیادہ ہیں۔

دستاویز کے مطابق مالی فراڈ، بلیک میلنگ اور ہراسانی سے متعلق شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا، مالی فراڈ کی شکایات 49 ہزار 982 سے بڑھ کر 71 ہزار 51 تک پہنچ گئیں۔بلیک میلنگ،ہراسانی اور ہتک عزت سےمتعلق شکایات کی تعداد 50 ہزار 782 رہی، شناخت کی نقالی کے واقعات میں بھی دوگنا سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،ایسی شکایات گزشتہ سال ایک ہزار 768 تھیں، جو بڑھ کر 4 ہزار 60 ہوگئیں۔

دستاویز کےمطابق بچوں سے متعلق فحش مواد کی شکایات میں کمی آئی ہے،گزشتہ سال 236 شکایات کےمقابلےمیں رواں سال یہ تعداد 66 رہی،اس حوالے سے 419 انکوائریوں میں سے 90 کو مقدمات میں تبدیل کیا گیا،ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق شکایات بھی 593 سے کم ہوکر 220 رہ گئیں۔

دوسری جانب انسانی اسمگلنگ سے متعلق شکایات ایک سے بڑھ کر 20 ہوگئیں،الیکٹرانک فراڈ اور جعل سازی کے خلاف 17 ہزار 115 انکوائریاں کی گئیں، 2 ہزار 827 مقدمات درج کرکے ایک ہزار 527 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم سزا صرف چھ مقدمات میں سنائی گئی۔
435782 1308984 updates
شناخت کی چوری کے 317 مقدمات میں 325 گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے 161 مقدمات درج کرکے 105 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور سائبر دہشت گردی کے 104 مقدمات درج ہوئے، جن میں 54 گرفتاریاں کی گئیں۔

دوسری جانب پاکستان بھر کے شہری اب پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر سائبر کرائمز (آن لائن جرائم) کی رپورٹ درج کروا سکتے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ملک بھر کے ایمرجنسی ہیلپ لائن سسٹمز کو اپنے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔
WhatsApp Image 2026 10 18 at 03.48.33
ہیلپ لائن 15 پر موصول ہونے والی آن لائن ہراسانی، مالیاتی فراڈ، ڈیٹا چوری اور دیگر سائبر جرائم کی شکایت براہِ راست NCCIA کے متعلقہ زونز کو قانونی کارروائی کے لیے بھیج دی جائے گی۔

ڈی جی این سی سی آئی اے (NCCIA) سید علی ناصر رضوی کے مطابق اس اقدام کا مقصد شکایت کے عمل کو آسان بنانا، پولیس اور ایجنسی کے درمیان باہمی تعاون کو بہتر بنانا اور سائبر جرائم پر فوری کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں