اسلام آباد:بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ 2024,25ء میں ناقص انتظامی کنٹرول اور ڈیٹا سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز سمیت غیرمستحق کو کروڑوں کی ادائیگیاں کی گئیں، شریک حیات کی تصدیق کے بغیر بھی کروڑوں کی ادائیگیاں کی گئیں۔
دستاویز کے مطابق 6 لاکھ ایک ہزار 850 افراد میں رقوم کی تقسیم میں ڈیٹا تصدیق کئےبغیرہوئی، ادائیگی وفاقی کابینہ سے منظور شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزری کرکے کی گئی۔
آڈیٹر جنرل نے خودکار نظام کے ذریعے غلط ادائیگیوں کو روکنے کی تجویز دیدی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق یونیسیف، ڈبلیو ایچ او سے اربوں روپے کے مالی معاہدے میں آڈٹ کی شرط غائب ہے، 7 ارب 46 کروڑ کے معاہدے میں خلاف آئین آڈٹ کی شق حذف کر دی گئی۔
اسلام آباد میں 800 سی سی سے بڑی گاڑی کے 1719 مالکان میں 7 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے، 278 سرکاری ملازمین خود کو اسٹوڈنٹس ظاہر کرکے 25 لاکھ سے زائد ہڑپ کر گئے۔
ایک قومی شناختی کارڈ پر 7،7 خواتین کو 23 کروڑ 90 لاکھ ادائیگی، ڈپلیکیٹ قومی شناختی کارڈز کا استعمال، ادائیگی میں تاخیر، غیر شفافیت کا انکشاف ہوا ہے۔ 7 ہزار سے زائد خواتین کو شریک حیات کا غلط نام لکھ کر ساڑھے 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئی۔
تعلیمی وضائف پروگرام میں 13898 زائد العمر طلبا کو تقریبا 7 کروڑ ادا کئے گئے، خلیجی ریاستوں سمیت غیر ملکی دورے کرنے والے افراد کے اہلخانہ کو رقوم کی ادائیگی کی گئی۔ ان غیر مستحقین کو خلاف ضابطہ ایک کروڑ 30 لاکھ روپے ادائیگی کی گئی۔

