WhatsApp Image 2026 07 23 at 10.39.32

انسدادِ تشدد قانون میں اصلاحات کے لئے انسانی حقوق کمیشن کی دستخطی مہم شروع

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے انسداد تشدد قانون میں اصلاحات کے لئے 3 ہزار افراد کے دستخط کے حصول کی مہم شروع کر دی.
gavel
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ پولیس کسی کو بھی اٹھا کر لے جا سکتی ہے،تھانے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے—مار پیٹ، دھمکیاں، اور ذلت—وہ تشدد ہے۔ اور آج کے پاکستان میں قانون اتنا کمزور ہے کہ یہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا نہیں دے سکتا۔ سال 2022ء میں منظور ہونے والے انسدادِ تشدد قانون کے تحت آج تک ایک بھی شخص کا احتساب نہیں ہوا۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق پارلیمنٹ سے ان اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کو بھی جرم قرار دیا جائے، پولیس کی تفتیش پولیس کے بجائے آزاد افراد سے کروائی جائے، بیرونی نگرانوں کو جیلوں اور حوالات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ متاثرین کو انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے. WhatsApp Image 2026 07 23 at 10.51.58

دستخطی مہم مکمل ہونے کے بعد اصلاحات پر مبنی مطالبات تیار کر کے حکومت، ممبران پارلیمنٹ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو پیش کئے جائیں‌گے.

خیال رہے کہ پاکستان میں حراستی تشدد کے خلاف قانون "ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022” ہے، جو سرکاری اہلکاروں کی طرف سے حراست میں دیے جانے والے جسمانی نقصان اور موت کو جرم قرار دیتا ہے۔

جس کے تحت پولیس مقابلوں‌کے خلاف درخواستوں پر ایف آئی اے کی جانب سے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں.

اپنا تبصرہ لکھیں