433101 6989310 updates

ماں اور تین بچوں کی موت کا معاملہ، والد نے بیان میں بیوی پر شک ظاہر کر دیا

لاہور: ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، پولیس نےبچوں کے والد ناصر کا بیان ریکارڈ کر لیا۔
412853 8319086 updates
تفصیلات کے مطابق بچوں کے والد ناصر نے بتایا کہ خاتون تین سال سے ذہنی کیفیت میں مبتلا تھی اور چھ ماہ قبل ادویات چھوڑ دی تھیں گروسری لیکر گھر پہنچا تو بیوی سے پوچھا بچے کدھر ہیں، بیوی نے کہا بچے فاطمہ کیساتھ فلم دیکھنے گئے ہیں، بیوی کو کہا تم نے کیوں بھیجا، ہم بھی ساتھ جاتے،بیوی نے کہا تم آئس کریم کھاؤ صبح سے کچھ نہیں کھایا، بیوی سے گفتگو کر رہا تھا کہ دروازہ کھٹکا، دروازہ کھولا تو محلہ داروں نے کہا پیچھے صحن میں بچے پڑے ہیں، میں صحن کی جانب بھاگا، میرے بچے مردہ حالت میں پڑے تھے، بیوی کی طبعیت بھی بگڑی تو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

ناصر کا کہناتھا کہ بچوں کو امریکا سے لاہور ڈاکٹریٹ کی تعلیم دلوانا چاہتا تھا، امریکا میں تعلیمی اخراجات زیادہ ہیں تو سوچا پاکستان سے ڈاکٹر بناؤں، خدشہ ہے بیوی نے آئس کریم میں بچوں کو کچھ دیا۔

فرانزک ٹیموں اور پولیس نے لاشوں کا دوبارہ معائنہ شروع کر دیا، واقعہ نہایت پیچیدہ ہے، مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خاتون کے رشتہ داروں سے امریکا اور کینیڈا بھی بات ہوئی، بچوں کو زہریلی چیز کھلائی گئی یا زہر تفتیش کر رہے ہیں.

پولیس کے مطابق فیملی کا تعلق سیالکوٹ پسرور سے ہے، بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار والد یا والدہ ہیں ، اس سے متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا، محلے دار کے ملازمہ نے پیچھے گلی میں بچوں کی لاشیں دیکھی، معاملے کی مکمل باریک بینی سے تفتیش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن کے ایک گھر سے خاتون اور تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس پر پولیس نے گھر کے سربراہ ناصرڈوگر کو گرفتار کر لیا ۔

پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ ارشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں