کوئٹہ: انسداد دہشتگردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملزمان کو سماعت میں پیش کیا،دونوں ملزمان پر احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کا الزام تھا۔
استغاثہ کے مطابق گوادر میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار شبیر ایک مظاہرے کے دوران پتھر لگنے سے ہلاک ہوا تھا، جس کا مقدمہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کے دوران دونوں رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر نامزد کیا گیا اور انہیں اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ مقدمہ مارچ 2025 میں پیش آنے والے جعفر ایکسپریس حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائیوں کے سلسلے سے جڑا قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق حملے کے بعد کوئٹہ سول سپتال کے مردہ خانے سے مبینہ طور پر کچھ لاشیں نکالنے کے واقعے پر بھی قانونی کارروائی کی گئی،جس کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔
دوسری جانب بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے الزامات کے حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے طویل عرصے سے احتجاجی تحریک جاری ہے، جس کے دوران متعدد بار لانگ مارچ اور مظاہرے کیے گئے ہیں۔
ماہ رنگ اور صبغت اللہ کا ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سے آن لائن ٹرائل ہوا۔
